رسائی کے لنکس

جرمن ونگز کے طیارے کی تباہی سے متعلق شواہد کی تلاش جاری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایک فرانسیسی تفتیش کار برائس رابن نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ شواہد سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاون پائلٹ نے کاک پٹ کا دروازہ بند کرنے کے بعد جان بوجھ کر طیارہ گرایا۔

جرمن پولیس نے اس جرمن معاون پائلٹ کے گھروں کی تلاشی لی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس نے جان بوجھ کر طیارہ فرانس میں ایلپس پہاڑی سلسلے پر گرا دیا تھا۔ طیارہ گرنے سے اس میں سوار تمام 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جمعے کو پولیس نے 27 سالہ آندرے لوبیز کے دو گھروں کی تلاشی لی جہاں وہ کام کے بعد وقت گزارتا تھا۔ ان میں ایک اپارٹمنٹ ڈوسلڈورف میں ہے جبکہ ایک جرمنی کے ایک چھوٹے شہر مونٹابور میں اس کے والدین کا گھر ہے۔ پولیس نے متعدد بار کہا ہے کہ اس نے شواہد کے طور پر کئی اشیا کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

حادثے کی تحقیقات کرنے والے ایک فرانسیسی تفتیش کار برائس رابن نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ شواہد سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آندرے لوبیز نے کاک پٹ کا دروازہ بند کرنے کے بعد جان بوجھ کر طیارہ گرایا۔ اس وقت طیارے کا پائلٹ کاک پٹ سے باہر تھا جو کوشش کے باوجود اندر نہیں جا سکا۔

برائس رابن نے کہا طیارے کے کاک پٹ ریکارڈر سے حاصل کی گئی معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آندرے لوبیز نے طیارے کو خود کار نظام سے ہٹانے کے بعد اسے آٹھ منٹ کے اندر 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے نیچے لے جا کر پہاڑوں سے ٹکرا دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ آندرے لوبیز کا نام دہشت گردوں کی نگرانی کرنے والی فہرست میں شامل نہیں تھا۔ جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق ماضی میں آندرے لوبیز نے شدید تھکاوٹ یا ڈپریشن کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے چھٹی لی تھی۔

جرمں اخبار ’ڈیر شپیگل‘ کے سینیئر ایڈیٹر نے آندرے لوبیز کے کلاس فیلوز کے حوالے سے کہا ہے کہ اس نے 2009ء میں شدید تھکاوٹ کی وجہ سے ہوا بازی کی تربیت سے چھٹی لی تھی۔ ایک اور جرمن اخبار نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوبیز ڈپریشن کے لیے طبی مدد لے رہا تھا۔

تاہم جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔ جرمن ونگز لفتھانزا کی ذیلی کمپنی ہے۔

کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ جرمنی کے پرائیویسی قوانین کے تحت کسی فرد کی طبی معلومات عام نہیں کی جاتیں جس کی وجہ سے انہیں نہیں معلوم کہ آندرے لوبیز نے چھٹی کسی طبی مسئلے کی وجہ سے لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آندرے لوبیز کے میڈیکل ٹیسٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ’’جہاز اڑانے کے 100 فیصد قابل‘‘ تھے اور ان پر کسی قسم کی پابندی نہیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ وائس ریکارڈر کے ڈیٹا سے پتا چلا ہے کہ طیارے کے مسافروں کو حادثے سے چند لمحے قبل ہی حالات کی سنگینی کا علم ہوا جس کے بعد ان کی چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے۔

برائس رابن کا کہنا تھا کہ پائلٹ شاید بیت الاخلا استعمال کرنے کاک پٹ سے باہر نکلا تھا۔ اس نے دوبارہ اندر جانے کے لیے کاک پٹ کا دروازہ کئی مرتبہ پیٹا مگر اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اس دوران صرف آندرے لوبیز کے سانس لینے کی آواز صاف سنائی دے رہی ہے جس میں کسی قسم کا اضطراب نہیں بلکہ یہ عام انسانی تنفس کی آواز ہے۔

رابن کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش سے اس واقعے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ملا۔

XS
SM
MD
LG