رسائی کے لنکس

نایاب نسل کے بن مانس کے ایک بچے کو جسے اس کی ماں نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، اور جس کی پرورش جرمنی کے ایک چڑیا گھر میں کی گئی ہے، پہلی بار لوگوں کے سامنے لایا گیا ہے۔

بن مانس کے بچے کا نام سامبو رکھا گیا ہے اور اسے فرینکفرٹ کے چڑیا گھر میں بوتل کے ذریعے دودھ پلاکر پروان چڑھایا گیا ہے۔ بچے کی ماں نے اسے اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ اس کا دودھ بچے کی ضروریات کے لیے ناکافی تھا اور وہ اس کی بھوک نہیں مٹا سکتی تھی۔

چڑیا گھر کے عہدے داروں کو توقع ہے کہ سامبو جلد ہی چڑیا گھر میں اپنے جنگلے سے مانوس ہوجائے گا ۔ لیکن انہیں یہ بھی خدشہ ہے کہ چونکہ اس کی خوراک فی الحال بوتل کے ذریعے فراہم کیا جانے والا دودھ ہے ، اس لیے نئی جگہ پر مسائل پیش آسکتے ہیں۔

بڑی نسل کے بن مانس جمہوریہ کانگو کے کانگو بیسن کے علاقے میں محدود تعداد میں موجود ہیں اور ماہرین کا کہناہے کہ ان کی نسل دنیا سے مٹ جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔

سامبو ، کانگو میں بولی جانے والی ایک علاقائی بولی لین گالا کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے سات۔ بن مانس کے بچے کا نام سامبو اس لیے رکھا گیا تھا کیونکہ وہ اس سال جنوری کی 7 تاریخ کو پیدا ہواتھا۔

XS
SM
MD
LG