رسائی کے لنکس

مہاجرین بحران: جرمنی کا ٹیکسوں میں اضافے نہ کرنے کا اعلان


فائل

فائل

جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ جرمنی کی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے مستحکم ہے جس کے باعث ان کی حکومت موجودہ وسائل سے ہی لاکھوں تارکینِ وطن کا بوجھ اٹھا سکے گی۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرخیل نے کہا ہے کہ ان کی حکومت لاکھوں مہاجرین کی آمد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نبٹنے کے لیے اپنے شہریوں پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کرے گی۔

جرمن روزنامے 'بِلڈ' کے ساتھ ایک انٹرویو میں جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ جرمنی کی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے مستحکم ہے اور اس وقت بھی اس کی صورتِ حال خاصی بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام کی وجہ سے ان کی حکومت کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اپنے شہریوں پر کوئی نیا ٹیکس عائد کیے بغیر مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے آنے والے لاکھوں تارکینِ وطن کا بوجھ اٹھا سکے۔

'بِلڈ' نے اتوار کو جرمن چانسلر کے انٹرویو کے بعض اقتباسات شائع کیے ہیں جب کہ مکمل انٹرویو پیر کو شائع کیا جائے گا۔

اس سے قبل ہفتے کو ایک کثیر الاشاعت جرمن اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ مہاجرین کی ریکارڈ تعداد میں یورپ آمد اور انہیں بنیادی ضرورتوں کی فراہمی پر آنے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے جرمن حکومت اور یورپین کمیشن ایک نیا ٹیکس نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے۔

لیکن جرمن اور یورپی یونین کے حکام نے اس خبر کی تردید کی تھی۔

غیر ملکی باشندوں کو پناہ دینے سے متعلق نسبتاً نرم قوانین اور بہتر سہولتوں کی فراہمی کے باعث جرمنی مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے جنگ اور غربت زدہ علاقوں سے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی پہلی ترجیح ہے۔

جرمن حکومت نے رواں سال آٹھ لاکھ تارکینِ وطن کو قبول کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن گزشتہ مہینے تارکینِ وطن کی آمد میں کئی گنا اضافے کے بعد سے جرمن حکومت مسلسل اس تعداد پر نظرِ ثانی کا عندیہ دے رہی ہے۔

جرمنی کے وائس چانسلر سگمر گیبریئل نے اتوار کواپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک رواں سال 10 لاکھ سے زائد مہاجرین اور تارکینِ وطن کی میزبانی کی توقع کر رہا ہے۔

'بِلڈ' کے ساتھ اپنے انٹرویو چانسلر اینگلا مرخیل نے اعتراف کیا کہ بہتر طرزِ زندگی کا یقین مہاجرین کی جرمنی آمد کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر یورپی ملکوں - بشمول نیدرلینڈز اور لگسمبرگ جیسے امیر ممالک - کے مقابلے میں ان کی حکومت جرمنی آنے والے مہاجرین کو زیادہ وظیفہ دے رہی ہے۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ زیادہ رقم کی فراہمی کی وجہ سے مہاجرین کی اکثریت جرمنی میں آباد ہونے کی خواہش مند ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال سے نبٹنے کے لیے اب ان کی حکومت ملک میں داخل ہونے نئے مہاجرین کو نقد رقم کے بجائِے سامان اور دیگر سہولتوں کی فراہمی پر غور کر رہی ہے تاکہ مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔

XS
SM
MD
LG