رسائی کے لنکس

کراچی کی زندگی کے مختلف پہلووٴں کو نوجوان فلم میکرز نے اجاگر کیا ہے ان پانچ دستاویزی فلموں میں جن کی نمائش آرٹس کونسل میں ہونے والی 'کراچی کانفرنس' کے تیسرے اور آخری روز ہوئی ان کی خاص بات یہ تھی کہ فلموں کی اسکریننگ کے بعد ان پر 'ڈسکشن' کے لئے پینل کا بھی اہتمام کیا گیا تھا

بحیرہ عرب کے کنارے آباد پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی اپنے دامن میں رنگا رنگ ثقافتی دھنک سمیٹے ہوئے ہے اور اسی لئے یہاں بسنے والوں کی روزمرہ زندگی میں مسائل کے ساتھ ساتھ دلچسپ انفرادیت بھی نظر آتی ہے۔

کراچی کی زندگی کے انہی مختلف پہلووٴں کو نوجوان فلم میکرز نے اجاگر کیا ہے ان پانچ دستاویزی فلموں میں جن کی نمائش آرٹس کونسل میں ہونے والی کراچی کانفرنس کے تیسرے اور آخری روز ہوئی۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ فلموں کی اسکریننگ کے بعد ان پر ڈسکشن کے لئے پینل کا بھی اہتمام کیا گیا۔

دکھائی جانے والی دستاویزی فلموں کے نام 'سٹی بائے دی سی'، 'دل تو بچہ ہے'، 'کوراچی'، 'اے پختون میموری' اور 'دی لوسٹ جیوش گارڈن' ہیں؛ جبکہ ان میں جس فلم نے سب سے زیادہ پذیرائی حاصل کی وہ تھی 'دل تو بچہ ہے'۔

تمام فلمیں موضوع اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بہت اچھی رہیں جیسے فلم 'سٹی بائے دی سی' میں زمینوں سے جڑے معاملات، مسائل اور ماحولیات کو موضوع بنایا گیا، جبکہ 'کوراچی' میں کراچی کا مثبت پہلو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

'کوراچی‘ کے ڈائریکٹر علی حاکم نے فلم کا نام مختلف رکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ 'کراچی کو دنیا کے مختلف ملکوں میں مختلف تلفظ کے ساتھ پکارا جاتا ہے۔ بس اسی لئے، نام تھوڑا سا بدل دیا۔'

’اے پختون میموری‘ کی ڈائریکٹر یمنے چوہدری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کی شوٹنگ کراچی کے علاقے شیریں جناح کالونی میں کی گئی مگر خفیہ طور پر ورنہ ان کے اور ان کی ٹیم کے لئے وہاں موجودہ نامناسب حالات میں شوٹنگ کرنا ناممکن تھا۔

XS
SM
MD
LG