رسائی کے لنکس

حال ہی میں برمنگھم اور لیورپول کے شہریوں نے اپنے گھروں سے دو فٹ تک کے خونخوار چوہے بھی پکڑے ہیں۔

بچوں کی دلچسپ دیومالائی کہانی 'پائپ پائپر' کا خیال آتے ہی میرے ذہن میں کہانی کے اس پراسرار کردارکا تصور ابھرتا ہے جو اپنی بانسری کی سحر انگیز دھنوں سے جانوروں کو مسحور کرکے انھیں اپنے پیچھے چلنے پر مجبور کردیا کرتا تھا۔

اس طرح اس دیو مالائی کردار نے دریائے ویسر کے کنارے آباد شہر ہیملن کو چوہوں کی اذیت ناکی سے نجات دلائی تھی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کہانی 16 ویں صدی کی ہے لیکن صدیاں گزرنے کے بعد لندن کو آج کسی ایسے ہی جادوگر کی ضرورت ہے جس کی بانسری کی دھن شہر سے سارے چوہوں کا صفایا کردے۔

بظاہر معصوم نظر آنے والی ذہین مخلوق چوہے کی کارستانیوں سے تو آپ سب ہی واقف ہوں گے جسے اچھلنے، کودنے، تیرنے، دوڑنے اور کترنے کے علاوہ نہ جانے کیا کیا آتا ہے۔

اسی لیے تو لندن جیسے ترقی یافتہ شہر کی انتظامیہ بھی ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے اور دوسری جانب شہری بھی چوہوں سے پناہ مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔

لندن کے ساتھ چوہوں کی آنکھ مچولی کا سلسلہ بے حد پرانا ہے۔ سنہ 1665ء میں وکٹوریہ عہد میں بھی لوگ چوہوں کی آبادیوں پرکنٹرول پانے کے لیے لڑرہے تھے۔

یورپ کے بعد لندن کی سڑکوں پر دندناتے سیاہ چوہوں نے سارے شہر میں طاعون کی وبا پھیلا دی تھی۔

اس وقت اس بیماری نے لاکھوں افراد کی جان لے لی تھی لیکن تقریباً ساڑھے تین صدیاں گزرنے کے بعد چوہے پھر سے اس شہر میں واپس آگئے ہیں۔

لیکن اس باریہ سیاہ نہیں ہیں بلکہ بھورے ہیں اوران کا سائز پہلے سے دوگنا ہے جنھیں جنک فوڈ کی خوشبو شہر میں واپس کھینچ لائی ہے۔

کہنے والے تو یہ تک کہتے ہیں کہ اگر لندن میں رہنا چاہتے ہیں تو چوہوں سے دوستی کرنی ہی پڑے گی جو آپ کو گھر اور دفاتر ہرجگہ کمپنی دینے کے لیے موجود ہیں۔

لیکن ان کی بڑی کالونیاں زیادہ تر زیر زمین ریلوے لائنوں، نالیوں اور دریائے ٹیمز کے کنارے پائی جاتی ہیں۔ عام طور پر شہری انھیں ہر روز صبح کے وقت فٹ پاتھ پر کچرے کے سیاہ تھیلوں کو پھاڑتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق چوہے لندن کے شہریوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ بنتے جارہے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ ان کے سائز بھی بہت بڑے ہیں۔ دیکھا جائے تو اوسطاً ایک چوہا ایک پاونڈ سے کم وزنی ہوتا ہے لیکن پیسٹ کنٹرولرز کا کہنا ہے کہ اب یہ اس سائز سے دوگنے ہوچکے ہیں۔

ان چوہوں کو روزانہ فش اینڈ چپس، برگرز اور فرائیڈ چکن کی صورت میں بہت ثقیل غذا مل رہی ہے کیونکہ جنک فوڈ کا ایک بڑا حصہ کچرا دانوں میں ڈال دیا جاتا ہے جو کہ کھانے کے قابل ہوتا ہے۔

برطانیہ میں طوفان اور سیلاب کے بعد غیر معمولی دیو قامت چوہوں کی بھرمار نے برطانوی شہریوں کو بے حد خوف زدہ کردیا ہے۔ حال ہی میں برمنگھم اور لیورپول کے شہریوں نے اپنے گھروں سے دو فٹ بڑے خونخوار چوہے بھی پکڑے ہیں۔

چوہوں کے محفوظ ٹھکانے گھر اور دفاتر ہی نہیں بلکہ ان کی پسندیدہ جگہ ہوٹل اور چھوٹے ریستوران ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثرفاسٹ فوڈ ریستوران چوہوں کے عتاب کا نشانہ بنتے ہیں اوران پر تالے لگا دئیے جاتے ہیں۔

پیسٹ کنٹرولرز کے مطابق لیورپول، برمنگھم اور لندن میں چوہوں کی سب سے بڑی کالونیاں آباد ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق اس سال کے آخر تک چوہوں کی آبادی ساٹھ ملین سے بڑھ کر 180ملین تک جا پہنچے گی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بھورے چوہے جنھیں نارویجن چوہا بھی کہا جاتا ہے ان کی آبادی کے لیے لندن کا موسم سازگار ہے۔ یہ زیادہ ترگیلی اور نم جگہوں میں پرورش پاتے ہیں اور لندن اس اعتبارسے انتہائی موزوں جگہ ہے۔

یہ چوہے زیادہ تر موسم سرما اور خزاں میں غذا اور چھت کی تلاش میں گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں اورخصوصاً پرانے مکانات کی لکڑی کی چھتیں اور دیواروں کی دراڑیں ان کی محبوب پناہ گاہیں ہوتی ہیں جس کے بعد یہ گھروں کے فرنیچر اور باورچی خانے کے کیبنٹ میں اس طرح براجمان نظر آتے ہیں جیسے برسوں سے یہ آپ کی نہیں بلکہ ان کی رہائش گاہ ہے۔

اسی لیے لوگ کہتے ہیں کہ اگر یہ ایک بار کسی گھر میں داخل ہو جائیں توان کو گھر سے باہر نکالنا ممکن ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

نارویجن چوہوں کی عام لمبائی عام طور پر 25 سینٹی میٹر اور دم کی لمبائی تقریباً 17 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ یہ ایک دن میں 60 ملی لیٹر پانی اور 25 سے 30 گرام فوڈ کھا سکتے ہیں۔

ان کےدانت انتہائی تیز اور سونگھنے کی حس کمال کی ہوتی ہے اور انھیں پلاسٹک کے ڈبوں، برقی تاروں تک کو چبا ڈالنے میں مہارت حاصل ہوتی ہے۔

اگرچہ شہری انتظامیہ کی جانب سے مفت چوہے مار ادویات تقسیم کی جاتی ہیں لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ چوہے مار دوائیاں اب چوہوں پراثر نہیں کر رہیں۔ کیونکہ چوہے ان کےعادی ہو چکے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چوہوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پیسٹ کنڑول کی جانب سے زیادہ زہریلی دواؤں کی منظوری کے لیے یورپی یونین سے سفارش بھی کی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG