رسائی کے لنکس

وزیرِاعظم کی سزا کی حمایت، مخالفت میں مظاہرے

  • عمیر ریاض

صوبائی دارالحکومت کراچی میں پیپلز پارٹی کے درجنوں کارکنوں نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی عمارت کے باہر احتجاج کیا ۔ مشتعل کارکنان نے شہر کے کئی نواحی علاقوں بشمول ملیر، لیاری، نیو کراچی، کلفٹن اور محمود آباد کے علاقوں میں احتجاج کے دوران میں سڑکوں پر ٹائر جلائے

عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دیے جانے کے بعد حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سندھ کے کئی شہروں میں احتجاج کیا ہے۔

جمعرات کی صبح سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کی جانب سے وزیرِاعظم کو تا برخواستِ عدالت سزا سنائے جانے کے بعد سندھ کے کئی شہروں اور قصبات میں پی پی پی کے کارکنوں نے احتجاج کیا اور کاروباری مراکز بند کرادیے۔

صوبائی دارالحکومت کراچی میں پیپلز پارٹی کے درجنوں کارکنوں نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی عمارت کے باہر احتجاج کیا ۔ مشتعل کارکنان نے شہر کے کئی نواحی علاقوں بشمول ملیر، لیاری، نیو کراچی، کلفٹن اور محمود آباد کے علاقوں میں احتجاج کے دوران میں سڑکوں پر ٹائر جلائے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں نامعلوم مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ کرکے کاروباری مراکز بھی بند کرادیے۔مختلف علاقوں میں ہونے والے احتجاج کے باعث شہر میں ٹریفک بھی معمول سے کم رہا۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق حیدرآباد، سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، نواب شاہ، دادو اور میرپورخاص سمیت سندھ کے کئی شہروں میں بھی حکمران جماعت کے کارکنوں نے احتجاج کے دوران ٹائر جلائے، ہوائی فائرنگ کی اور زبردستی دکانیں اور کاروباری مراکز بند کرادیے۔

ادھر وزیرِاعظم کے شہر ملتان میں ان کی سزا کے خلاف اور حمایت میں علیحدہ علیحدہ مظاہرے کیے گئے۔

پیپلز پارٹی ملتان کے کارکنوں نے ہاِئی کورٹ رجسٹری کی عمارت کے سامنے اور شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکیں روک کر احتجاج کیا اور ٹائر جلائے۔

اس کے برعکس ملتان ہائی کورٹ بار ایسی ایشن سے منسلک وکلا نے وزیرِاعظم کے خلاف فیصلے پر عدالتی احاطے میں مٹھائی تقسیم کی۔ لاہور میں بھی وکلا نے عدالتی فیصلے کے حق میں مظاہرہ کیا۔

وزیرِاعظم کی سزا کے خلاف جنوبی پنجاب کے چند دیگر شہروں سے بھی احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں جب کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے کوئی بڑا ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

دریں اثنا سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالتِ عالیہ سے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کو کام سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیرِاعظم کو توہینِ عدالت کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد عدالتِ عظمیٰ اسپیکر قومی اسمبلی کو مناسب کاروائی کے احکامات جاری کرے اور ان پر عمل درآمد تک یوسف رضا گیلانی کو بحیثیت وزیرِاعظم کام کرنے سے روکا جائے۔

عدالت نے درخواست گزار مولوی اقبال حیدر ایڈوکیٹ کی فوری سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے درخواست کی سماعت کے لیے جمعے کا دن مقرر کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG