رسائی کے لنکس

چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی سے متعلق وزیراعظم کا وضاحتی بیان


وزیراعظم گیلانی قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنا وضاحتی بیان پیش کررہےہیں

وزیراعظم گیلانی قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنا وضاحتی بیان پیش کررہےہیں

وزیراعظم گیلانی نےکہا کہ پارلیمان کی آئینی کمیٹی ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گی اُس کا اطلاق ججوں کی موجودہ تعیناتی پر نہیں ہوگااور یہ ابہام بھی ختم ہونا چاہیئے کہ حکومت موجودہ عدلیہ سے جان” چھڑانا چاہتی“ ہے۔

پیر کی شب وزیراعظم گیلانی نے قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا تھا کہ گذشتہ سال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججوں کوبحال کرنے کااُنھوں نے جو حکم جاری کیا تھا پارلیمان سے اُس کی توثیق کرانا ابھی باقی ہے۔ اُن کے اس بیان پر حزب مخالف کی جماعتوں اور قانونی ماہرین نے کڑی تنقید کی اور اسے عدلیہ کو دھمکی دینے کے مترداف قرار دیا ۔

وزیراعظم کے بیان کے بعد ملک میں سیاسی صورت حال خاصی کشیدہ ہو گئی اور بظاہرحکومت اور عدلیہ کے درمیان تصادم کے امکانا ت بڑھ گئے لیکن منگل کی صبح قومی اسمبلی کا اجلاس جب دوبارہ شروع ہوا تو وزیر اعظم گیلانی نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے وہ بیان ججوں کی بحالی کے وقت آئینی ماہرین کے مشوروں کے تناظر میں دیا تھا جس کے مطابق ججوں کی بحالی کے لیے پارلیمان میں قرارداد پیش کرنا ضروری تھی تاہم اُنھوں نے بتایا کہ اس رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک حکم نامے کے ذریعے ججوں کو بحال کر دیا اور جب عدلیہ نے بحالی کے اُس حکم کو قانونی حیثیت دی تو حکومت نے اس پربھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمان کی آئینی کمیٹی ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گی اُس کا اطلاق ججوں کی موجودہ تعیناتی پر نہیں ہوگااور یہ ابہام بھی ختم ہونا چاہیئے کہ حکومت موجودہ عدلیہ سے جان” چھڑانا چاہتی“ ہے۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سفارشات کے برعکس صدر آصف علی زرداری نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ کے دو ججوں کی نئی تقرری کاحکم جاری کیا تھا لیکن اس نوٹیفکیشن کے اجراء کے کچھ ہی دیر بعد سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ججوں کی تعیناتی کے اس فیصلے کو یہ کہہ کر معطل کر دیا تھا کہ آئین کی شق 177 کے تحت ججوں کی تقرر ی کرتے وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاور ت لازمی ہوتی ہے لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد ہی ججوں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اور وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ
عدالت عظمیٰ چیف جسٹس سے مشاورت کی آئینی شق کی تشریح کرکے جو بھی فیصلے دے گی حکومت اُس پر من وعن تسلیم کرے گی۔ اُنھوں نے منگل کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ پارلیمان ایک خودمختار ادارہ ہے اور قانون سازی صرف اور صرف پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے ۔

مزید برآں وزیر اعظم نے کہا کہ اگرپارلیمان ججوں کی تعیناتی کا اختیارصد ر کی بجائے چیف جسٹس کودینے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا چاہتی تو حکومت کے لیے یہ فیصلہ بھی قابل قبول ہوگا۔ عدالت عظمیٰ نے ججوں کی تقرری کے سرکاری فیصلے کو معطل کر کے اس مقدمے کی آئندہ سماعت جمعرات18 فروری کو کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG