رسائی کے لنکس

ججوں کی تقرری کا سرکاری نوٹی فیکیشن منسوخ


وزیرِ اعظم گیلانی اور چیف جسٹس افتخار گیلانی کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات

وزیرِ اعظم گیلانی اور چیف جسٹس افتخار گیلانی کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات

پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے ججوں کی تقرری کے بارے میں ہفتے کے روز ایوانِ صدر کی طرف سے جاری کیا جانے والا نوٹی فیکیشن منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے اُن کی سرکاری رہائش گاہ پر بدھ کے روز ایک طویل ملاقات کی جو تین گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ اس ملاقات کے بعد وزیر اعظم گیلانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی مشاورت کے مطابق اب سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کا ایک نیا نوٹی فیکیشن جاری کیا جا رہا ہے اور جو پرانے سرکاری اعلامیہ کی جگہ لے لے گا۔

اُنھوں نے بتایا کہ اب جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سپریم کورٹ میں تعینات کیا جائے گا جب کہ عدالت عظمیٰ کے موجودہ جج خلیل الرحمن رمدے جن کی مدت ملازمت حال ہی میں ختم ہوئی ہے، بطور ایڈہاک جج ایک سال تک اپنا کام جاری رکھیں گے۔ اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف بدستور اپنے عہدے پر قائم رہیں گے۔ واضح رہے کہ یہ اقدام چیف جسٹس کی مشاورت کے عین مطابق ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں بھی ججوں تقرری کا معاملے کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ جب وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا ججوں کی تعیناتی کے نئے نوٹی فیکیشن پر اُنھیں صدر آصف علی زرداری کا اعتماد حاصل ہے تو اُنھوں نے کہا کہ تمام فیصلے صدر کی مشاورت اُنھیں اعتماد میں لے کر کیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اور ایوان کو اپنی ملاقات اور ججوں کی تعیناتی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ عدلیہ اور حکومت کے درمیان تصادم کے جس خدشے کو اظہار کیا جا رہا تھا وہ چیف جسٹس سے تفصیلی ملاقات کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کی شام چیف جسٹس کی سفارشات کے برعکس صد ر آصف علی زرداری لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کو سپریم کورٹ کا جج جب کہ جسٹس ثاقب نثار لاہور ہائی کورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس تعینات کرنے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا تھا لیکن عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ججوں کی تعیناتی کی سرکاری اعلامیے کے اجرا کے کچھ ہی دیر بعد اُسے معطل کر کے مقدمے کی سماعت 18 فروری کو کرنے کا اعلان کیا۔

لیکن اس دوران قانونی حلقوں، حزب مخالف کی جماعتوں اورپاکستانی میڈیا میں حکومت کے اقدام پر کڑی تنقید شروع ہو گئی اور وکلا کی طرف سے عدلیہ کی حمایت میں ملک گیر احتجاج شروع کرنے کے اعلانات بھی کیے گئے۔ بظاہر اس کشیدہ صورت حال کے پیش نظر حکومت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور بدھ کو بظاہر ایک سنگین عدالتی بحران ختم ہو گیا۔

وزیر اعظم نے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں تسلیم کیا کہ انسانوں سے غلطیاں ہو ہی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صدر آصف علی زرداری کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG