رسائی کے لنکس

صدر پر تنقید کی وجہ ان سے ’’محبت‘‘ ہے

  • حسن سید

صدر زرداری سے لندن میں برطانوی وزیر داخلہ کی ملاقات

صدر زرداری سے لندن میں برطانوی وزیر داخلہ کی ملاقات

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستانی صدر کے یورپ کے دورے پر کی جانے والی کڑی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کی شخصیت سے میڈیا اور اپوزیشن کو اتنی ’’محبت‘‘ ہے کہ اگر وہ یہ دورے نہ بھی کر رہے ہوں تو کسی اور معاملے پر تنقید کا نشانہ بن رہے ہوتے ۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے ملک کا چیف ایگزیکٹو وزیر اعظم ہوتا ہے جبکہ صوبائی چیف ایگزیکٹو وزرائے اعلیٰ ہوتے ہیں "ان میں سے اگر کوئی بھی باہر ہوتا تو تشویش کی بات تھی لیکن یہ سب لوگ ملک کے اندر ہیں اور اپنا اپنا کام کر رہے ہیں لہٰذا کسی کو فکر نہیں ہونی چاہیئے۔‘‘

ایک ایسے وقت پر جب پاکستان کو اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے صدر کو فرانس اور برطانیہ کا دورے کرنے پر صرف اندروں ملک ہی نہیں بلکہ برطانوی میڈیا میں بھی تنقید کا سامنا ہے۔

مقامی میڈیا اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سمیت اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صدر کو اس مشکل گھڑی میں ملک کے اندر موجود ہوتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے تھا کہ شدید سیلاب کی زد میں آنے والے لاکھوں متاثرین تک بروقت امداد پہنچے۔

پاکستانی مبصرین کی رائے میں صدر زرداری کے دورہ برطانیہ کی سرکاری طور پر کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ اس پر اٹھنے والے اخراجات سے قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑے گا ۔

پاکستانی صدرکو اس دورے پر تنقید کا اس لیے بھی سامنا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم نے حال ہی میں بھارت کے دورے کے دوران پاکستان پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ اس کے بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث گروپوں کے ساتھ روابط ہیں جس پر ملک میں سخت رد عمل پایا جاتا ہے۔

صدر زرداری کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کا دورہ اس لیے کر رہے ہیں کہ وہاں کی قیادت کو پاکستان پر عائد کیے جانے والے الزامات کے تناظر میں حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دورے کا بنیادی مقصد پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کو سیاسی منظر نامے پر متعارف کروانا ہے کیونکہ لندن میں قیام کے دوران برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے ایک اجتماع سےصدر زرداری اور بلاول بھٹو خطاب بھی کریں گے اور اس تقریب کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے پر زیادہ توانائی اور پیسہ خرچ کیا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG