رسائی کے لنکس

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی تازہ ترین لہر میں منگل کو کم از کم 14 افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں زخمی ہو گئے، جس کے بعد گلگت شہر میں فوجی دستوں کو تعینات کرکے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں کشیدگی کا آغاز صبح نو بجے کے قریب اُس وقت ہوا جب مذہبی تنظیم اہلِ سنت والجماعت کے کارکنوں نے اپنے رہنما مولانا عطا اللہ کی گزشتہ ہفتے گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران بعض دکانوں کو زبردستی بند کروانے کی کوشش کی۔

اسی اثنا میں شہر کے اہم علاقے اتحاد چوک میں اہلِ سنت والجماعت کی احتجاجی ریلی میں دستی بم پھٹنے سے کم از کم چار افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔ بم دھماکے سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں سے بعض کے مطابق دستی بم خود ریلی میں شریک ایک شخص کے پاس موجود تھا۔

ان واقعات کے بعد گلگت کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

مقامی عہدے داروں نے بتایا کہ تشدد کی ان کارروائیوں میں زخمی ہونے والے درجنوں افراد میں پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ کم از کم ایک زخمی شخص نے اسپتال میں دم توڑ دیا جب کہ بعض دیگر زخمیوں کی حالت بھی تشویش ناک بتائی گئی ہے۔

اُدھر چلاس کے علاقے میں شاہراہ قراقرم پر نامعلوم مسلح افراد نے مسافروں کو بسوں سے نیچے اُتار کر پہلے اُن کے شناختی کارڈ دیکھے اور پھر شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

حملہ آوروں نے بسوں کے قافلے کی حفاظت پر معمور پولیس کی ایک ٹیم پر بھی فائرنگ کی جس سے ایک اعلیٰ افسر سمیت متعدد اہلکار زخمی ہو گئے۔

فرقہ وارانہ کشیدگی کی اس تازہ ترین لہر کے بعد گلگت میں سرکاری دفاتر کے علاوہ تعلمی ادارے اور تجارتی مراکز بند کر دیے گئے، جب کہ انتظامیہ نے شہر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

امن و امان برقرار رکھنے کے عمل میں پولیس کی مدد کے لیے فوج کے دستے بھی گلگت پہنچ گئے ہیں اور شہر میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

پاکستان کے اس نسبتاً پُرامن سمجھنے جانے والے شمالی علاقے میں صورت حال فروری کے اواخر میں اُس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئی تھی جب مسلح افراد نے بسوں کے ایک قافلے پر حملہ کرکے گلگت سے تعلق رکھنے والے شیعہ برادری کے 18 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق کالعدم سنی تنظیم جنداللہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG