رسائی کے لنکس

کشیدگی کے باعث گلگت میں ’ہائی الرٹ‘


گلگت بلتستان میں آسمانی بجلی گرنے سے 30ہلاک

گلگت بلتستان میں آسمانی بجلی گرنے سے 30ہلاک

حفاظتی انتظامات کے تحت شہر میں موٹر سائیکل کی سواری پر بھی غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔


پاکستان کے شمالی خطے گلگت بلتستان میں فائرنگ کے تازہ واقعات کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز کو چوکنا کر دیا گیا ہے۔

گلگت کی حدود میں منگل کو پیش آنے والے مختلف واقعات میں مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر تعینات فرنٹیئر کانسٹبلری (ایف سی) کے اہلکار سمیت تین افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

تشدد کی یہ کارروائیاں ایک ایسے وقت ہوئیں جب گزشتہ ہفتے شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے 20 سے زائد افراد کی باقاعدہ شناخت کے بعد قتل کی وجہ سے گلگت کے حالات کشیدہ ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے اس کشیدگی کے تناظر میں بدھ کو سرکاری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے گلگت شہر میں تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو چوکنا کر دیا ہے۔

حفاظتی انتظامات کے تحت شہر میں موٹر سائیکل کی سواری پر بھی غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ سلامتی سے متعلق خدشات کے پیش نظر گلگت کو دیگر علاقوں سے ملانے والے راستوں کو بھی جزوی طور پر بند رکھا گیا۔

گلگت کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کشیدہ صورت حال کے باعث شہر میں تجارتی مراکز کے علاوہ مَحلوں میں قائم دکانیں بھی بند ہیں اور عید الفطر کی تعطیلات ہونے کے باوجود سڑکوں پر ٹریفک نا ہونے کے برابر ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے زمینی راستے سے گلگت جانے والوں کو ہدف بنا کر قتل کے حالیہ واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تخریب کار اپنی کارروائیوں کو فرقہ واریت کا رنگ دے کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں گلگت میں فرقہ وارانہ تشدد میں 18 افراد کی ہلاکت کے بعد مسافر گاڑیوں کو دوران سفر تحفظ فراہم کرنے کے لیے سرکاری اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا تھا، جب کہ حالیہ حملے کے بعد وزیراعظم پرویز اشرف نے اسلام آباد سے گلگت تک اضافی فضائی پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومتِ پاکستان گلگت جانے والی مرکزی ’شاہراہِ قراقرم‘ پر حفاظتی انتظامات بڑھانے کے لیے 10 کروڑ روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی چکی ہے۔
XS
SM
MD
LG