رسائی کے لنکس

گلگت بلتستان: نگرانی کی فہرست ’چوتھے شیڈول‘ میں شامل 47 نام خارج


(فائل فوٹو)

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق’ایچ آر سی پی‘ نے گلگت۔ بلتستان میں انسداد دہشت گردی قانون کے چوتھے شیڈول کی فہرست سے 47 افراد کے نام حذف کرنے کے حکومتی اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جن لوگوں کے نام فہرست میں بدستور موجود ہیں انہیں منصفانہ سماعت کا موقع فراہم کیا جائے۔

کمیشن نے جمعرات کی شب جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ایچ آرسی پی‘ محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کے ایک حالیہ نوٹیکفیکشن کو مثبت قدم قرار دیتا ہے جس میں ان 47 افراد کے نام چوتھے شیڈول سے نکالنے کا حکم دیا گیا ہے جن پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

بیان کے مطابق گزشتہ برس گلگت بلتستان کا دورہ کرنے والے ’’ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن‘‘ کو کئی کارکنوں نے بتایا تھا کہ علاقے میں حکومتی ایجنسیاں گلگت۔بلتستان میں امن وامان کو سبوتاژ کرنے والے گروہوں کے ساتھ مبینہ تعلقات کے الزام میں ان کے نام چوتھے شیڈول میں ڈال کر اُن کی نگرانی کرتی ہیں۔

ایچ آ ر سی پی کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ مشن کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن افراد کا نام چوتھے شیڈول میں ڈالا تھا اُن کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ مقامی پولیس اسٹیشنوں کو اپنی نقل وحرکت سے آگاہ کیا کریں۔

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ یہ بھی ضروری ہے کہ چوتھے شیڈول کے تحت جن افراد پر نظر رکھی جا رہی ہے، انہیں خود پر لگائے جانے والے کسی بھی الزام سے آگاہ کیا جائے۔

انسانی حقوق کمشین کے مطابق حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق، 92 نام چوتھے شیڈول کی فہرست میں برقرار رکھے گئے ہیں۔

ایچ آر سی پی حکام پر زور دیتا ہے کہ فہرست میں شامل تمام افراد کو منصفانہ سماعت کا موقع دیا جائے تاکہ ان کے ناموں کو بھی فہرست سے نکالنے کی جانب پیش رفت ہوسکے۔

’ایچ آر سی پی‘ کی سابق چیئرپرسن اور معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ایک ’فیکٹ فائنڈنگ مشن‘ نے گزشتہ سال اگست میں گلگت بلتستان کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد اس مشن نے رواں سال مارچ میں رپورٹ جاری کی تھی۔

اس رپورٹ میں گلگت بلتستان کے رہنے والوں کو مزید حقوق دینے کے علاوہ اُن کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

’ایچ آر سی پی‘ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گلگت بلتستان میں رہنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کا استعمال روکا جائے۔

واضح رہے کہ لگ بھگ 50 ارب ڈالر مالیت کے اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چین کے مغربی علاقے سنکیانگ سے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر تک سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا جال بچھانے کے علاوہ مواصلاتی ڈھانچے کی تعمیر، توانائی کے منصوبوں اور صنعتی زونز کا قیام شامل ہے۔

گلگت بلتستان کا علاقہ چین کی سرحد کے قریب واقع ہے اور ’سی پیک‘ منصوبوں کے لیے دیگر علاقوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی مقامی لوگوں سے زمینیں حاصل کی گئی ہیں۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس منصوبے کے بارے میں مقامی لوگوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے اور جن کی زمین لی گئی ہیں اُنھیں مناسب معاوضہ بھی دیا جائے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان زمینوں کا معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG