رسائی کے لنکس

آسٹریلیا: پناہ گزینوں کے متعلق عدالت کے فیصلہ پر وزیراعظم پریشان


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

آسٹریلیا کی وزیرِاعظم جولیا گیرالڈ نے کہا ہے کہ ملائیشیا کےساتھ پناہ گزینوں کے مجوزہ تبادلہ کے خلاف آسٹریلوی ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کی از سرِ نو تحریر کے مترادف ہے جس کے نتیجے میں پناہ کے متلاشی افراد کو کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کے آسٹریلوی اختیار پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔

وزیرِاعظم گیرالڈ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کردہ پابندی کی زد میں وہ مقامات بھی آئے ہیں جہاں آسٹریلیا ماضی میں پناہ کے متلاشی افراد کو قید کرتا رہا ہے۔ ان جگہوں میں پاپوانیو گنی کا منوس نامی جزیرہ اور ناؤرو کا جزیرہ نما ملک شامل ہیں۔

ادھر ملائشیا میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے آسٹریلوی عدالت کی جانب سے دیے گئے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ بدھ کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں آسٹریلوی ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر پناہ گزینوں کے تبادلے پر پابندی عائد کردی تھی کہ ملائشیا نے پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک اور قیدیوں پر تشدد سے متعلق عالمی معاہدوں پر دستخط نہیں کر رکھے۔

انسانی حقوق کی ملیئشین تنظیم 'سوارم' کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی عدالت کے فیصلے سے ملائشیا کی حکومت پر دباؤ پڑے گا کہ وہ پناہ گزینوں کے ساتھ برتاؤ میں بہتری لائے۔

واضح رہے کہ وزیرِاعظم گیرالڈ کی حکومت نے گزشتہ ماہ ملائشیا کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کیے تھے جس کی رو سے آسٹریلیا ان چار ہزار قانونی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں قبول کرنے پہ رضامند ہوگیا تھا جو ملائشیا میں آباد کاری کے منتظر ہیں۔ جواباً ملائشیا کو ان 800 غیر قانونی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں اس وقت تک قید رکھنا تھا جب تک آسٹریلوی حکام ان افراد کی جانب سے دائر کردہ پناہ کی درخواستوں کا کوئی فیصلہ نہیں کرلیتے۔

تاہم بدھ کو آسٹریلوی ہائی کورٹ نے اس معاہدہ کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس پر عمل درآمد روکنے کا حکم صادر کردیا تھا۔ مذکورہ فیصلہ کے بعد آسٹریلوی حکومت کو ان 350 غیر قانونی پناہ گزینوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا جنہیں پہلے مرحلے میں ملائشیا کے حوالے کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

آسٹریلیا کی وزیرِاعظم نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ماضی کی قانونی روایات سے متصادم ہے اور اس نے کئی قانون دانوں کو حیران کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سے حزبِ مخالف کی 'لبرل پارٹی' کے اس متبادل منصوبے پر بھی زد پڑتی ہے جس کے تحت آسٹریلیا میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ناؤرو میں قید خانہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG