رسائی کے لنکس

MH370 گمشدگی، مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کیسے؟


ہوائی سفر سے متعلق عالمی تنظیم ’دی انٹرنیشنل ائیر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن‘ نے گذشتہ ہفتے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایک ایسا نیا پینل تشکیل دے گا جو جہازوں کی نقل و حمل کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز اکٹھی کرے گا۔

عالمی سطح پر ائیرلائنز کوئی ایسا نظام وضع کرنے پر غور کر رہی ہیں جس کے باعث مستقبل میں، گذشتہ ماہ ملیشین طیارے کی گمشدگی جیسے کسی بھی افسوسناک واقعے سے بچا جا سکے۔

واضھ رہے کہ گذشتہ پچاس ساٹھ سالوں میں 80 ہوائی جہازوں سے زائد دوران ِ سفر غائب ہوئے۔

ہوائی سفر سے متعلق عالمی تنظیم ’دی انٹرنیشنل ائیر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن‘ نے جس میں 240 ائیر لائنز شامل ہیں، گذشتہ ہفتے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایک ایسا نیا پینل تشکیل دے گا جو جہازوں کی نقل و حمل کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز اکٹھی کرے گا۔

ہوائی سفر سے متعلق عالمی تنظیم آئی اے ٹی اے کو امید ہے کہ اس حوالے سے رواں برس کے آخر تک تجاویز پیش کر دی جائیں گی۔

وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے واشنگٹن میں آئی اے ٹی اے کے ترجمان پیری فلنٹ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے نہ صرف مختلف ائیر لائنز کے ماہرین بلکہ طیارے بنانے والی کمپنیوں اور ہوائی جہازوں کے سسٹم بنانے والے اداروں کے ساتھ ساتھ امدادی تنظیموں اور اقوام ِمتحدہ کے ہوائی بازی سے متعلق عالمی ادارے کو بھی شامل کیا جائے گا۔

پیری فلنٹ کے مطابق، ’یہ یقیناً ایک دلچسپ گروپ ہوگا۔ مگر اس سے قبل بھی ہوا بازی کی صنعت میں چند چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایسی عالمی میٹنگز کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے‘۔

پیری فلنٹ کے مطابق یہ پینل ہوائی جہازوں کی ٹریکنگ کے ساتھ ساتھ ہوائی جہازوں کے سسٹمز میں بہتری لانے کے لیے بھی کام کرے گا۔

پیری فلنٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آئی اے ٹی اے کی سفارشات یا تجاویز کو کوئی حتمی شکل دی جائے گی یا انہیں عملاً نافذ کیا جائے گا کہ نہیں؟ کیونکہ یہ کام ملکی اور عالمی سطح پر متعلقہ اتھارٹیز کا ہوگا۔

فلنٹ پیری کا کہنا تھا کہ، ’ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم ہمیں کبھی بھی دوبارہ اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ ہوائی جہاز کہاں گیا؟ ہر روز تقریباً ایک لاکھ ہوائی جہاز ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں، اور تقریباً ہر روز ہی وہ دنیا کے کسی نہ کسی رن وے پر اترتے ہیں۔ مگر ایسی صورتحال میں جبکہ جہاز دنیا میں کسی بھی رن وے پر نہ اترا ہو، ہمیں یہ ضرور معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ کہاں گیا؟‘
XS
SM
MD
LG