رسائی کے لنکس

بچوں کی مشقت کے خاتمے کی عالمی کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں

  • وِدوشی سنہا

بچوں کی مشقت کے خاتمے کی عالمی کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں

بچوں کی مشقت کے خاتمے کی عالمی کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں

ایک ہفتے بعد، تقریباً 200 ملکوں کے وزرائے محنت نیدر لینڈز کے شہرہیگ میں بچوں کی مشقت کی عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے جمع ہوں گے ۔ وہ 2016 تک دنیا سے بچوں کی مشقت کی بد ترین اشکال کے خاتمے کے لیے ایک نیا روڈ میپ تیار کریں گے۔ اس کانفرنس میں بیشتر توجہ تین ملکوں پر مرکوز ہوگی ۔ یہ ملک ہیں بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ۔ان ملکوں نے بچوں کی مشقت کو ختم کرنے کی جو کوششیں کی ہیں ان کی بنیاد پر انہیں دوسرے ملکوں کے لیے مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق، 2006 سے اب تک، دنیا بھر میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد11فیصد کم ہوئی ہے اور خطرناک پیشوں میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد میں 26 فیصد کی کمی آئی ہے ۔ یہ بہتری خاص طور سے بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ میں آئی ہے۔

سودھانشو جوشی انٹرنیشنل سینٹر فار چائلڈ لیبر اینڈ ایجوکیشن کے ڈائریکٹر ہیں۔ 20 برس پہلے بھارت کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جو حالات تھے وہ ان کے بارے میں کہتے ہیں’’مجھے یہ دیکھ کر شدید دُکھ ہوا تھا کہ بچوں کو بھارت کے مشرقی حصے سے، بہار سے اور نیپال سے لایا جاتا تھا اور ان سے جبری محنت لی جاتی تھی۔‘‘

لیکن اب بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ کپڑا بننے کی صنعت سے بچوں کی مشقت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب بچوں کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرام کام کر رہے ہیں۔ جوشی کہتے ہیں کہ بھارت میں اس سلسلے میں جو ترقی ہوئی ہے اس کی وجہ حکومت کے سماجی بہبود کے پروگرام ہیں۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی کی طرف سے کڑی نظر رکھی جاتی ہے ۔ جوشی کہتے ہیں کہ اس کام کو عالمی سطح پر کرنے کے لیے مضبوط سول سوسائٹی ضروری ہے ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امداد دینے والے ملکوں کو اپنی مالی اور ٹیکنیکل مدد ان ملکوں کو دینی چاہیئے جہاں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن یا آئی ایل او کےفِیلپ ایگر کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ باہر کے ملکوں سے ملنے والے عطیات سے حل نہیں ہوگا ۔ اگرچہ آئی ایل اونے بہت سے ملکوں میں بچوں کی مشقت کم کرنے کے لیے براہ راست امداد فراہم کی ہے تا ہم بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ نے اپنے قوانین پر عمل در آمد کے ذریعے بہت اچھا کام کیا ہے ۔

فیلپ کہتے ہیں’’بات صرف اتنی نہیں ہے کہ شمال کے ملک جنوب کے ملکوں کو پروگرام پر عمل در آمد کے لیے مدد دے رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنوب کے ملکوں نے اپنے وسائل سے بعض بڑے بڑے پروگرام شروع کیے ہیں جنہیں کبھی کبھی شمال کے ملکوں سے اضافی مدد مل جاتی ہے۔ لیکن بچوں کی مشقت کے خلاف جد و جہد میں بیشتر وسائل جنوب کے ملکوں کی حکومتوں نے فراہم کیے ہیں۔‘‘

بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ اپنے ہمسایہ ملکوں کی بھی مدد کر رہے ہیں۔برازیل نے اپنے “Bolsa Familia” جیسے پروگرام کو ڈزائن کرنے میں حکومتِ گھانا کی مدد کی۔ اس پروگرام میں غریب خاندانوں کو اس وقت تک مالی امداد ملتی رہتی ہے جب تک ان کے بچے اسکول جاتے رہتے ہیں۔ان تینوں ملکوں نے افریقہ کے پرتگالی زبان بولنے والے ملکوں میں بچوں کی مشقت کے خلاف جدو جہد میں ایک پراجیکٹ کے لیے بھی مالی امداد فراہم کی ۔

سودھانشو جوشی کہتے ہیں’’میں سمجھتا ہوں کہ بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کو اپنے اپنے بر اعظموں میں یعنی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں بچوں کی مشقت ختم کرنے کے معاملے میں نمونے کے طور پر پیش کیاجاتا ہے۔‘‘

بچوں کی مشقت کے موضوع پر حال ہی میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک مجلس مذاکرہ ہوئی جس میں بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کے وزرائے محنت نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے تجربات اور مشکلات سے آگاہ کیا۔ جنوبی افریقہ کے وزیرِ محنت، Membathisi Mdladlana نے کہا کہ حکومتوں کو ہر وقت چوکنا رہنا چاہیئے کیوں کہ انتہائی کامیاب پروگراموں میں بھی بعض اوقات نقائص سامنے آ جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا’’ہم کہتے ہیں کہ ہمیں غریب گھرانوں کے بچوں کے لیے مالی امداد کی ضرورت ہے تا کہ حکومتیں غریب گھرانوں کی مدد جاری رکھ سکیں لیکن اس میں مسئلہ یہ ہے کہ بعض نوجوان لڑکیاں حاملہ ہوجاتی ہیں کیوں کہ نہ ان کے پاس کوئی روزگار ہوتا ہے اور نہ وہ اسکول جاتی ہیں۔ ان کے لیے اپنا معیارِ زندگی بہتر بنانے کا یہ بڑا آسان طریقہ ہوتا ہے۔‘‘

ماہرین کو اندیشہ ہے کہ بچوں کی مشقت کے خلاف جد وجہدمیں جو کامیابی ہوئی ہے وہ عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہے ۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق بچوں کی مشقت غریبی کی وجہ ہے اور اس کا ایک نتیجہ بھی ۔ اس لعنت سے موئثر طریقے سے صرف اس صورت میں نمٹا جا سکتا ہے جب دنیا کے بڑے بڑے ممالک مِل جُل کر اور زیادہ مالی وسائل کے ساتھ اسے ختم کرنے کا عزم کریں۔

XS
SM
MD
LG