رسائی کے لنکس

سنہ 2016 میں اب تک کروڑ سے زیادہ افراد بے دخل: رپورٹ


ادلب، شام

ادلب، شام

متعلقہ ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے اگست کے دوران مسلح تنازع کے نتیجے میں شام میں 900000 افراد نے نقل مکانی کی، جب کہ یمن میں 478000 اور ترکی میں یہ تعداد 355000 تھی قدرتی آفات کے نتیجے میں لاکھوں لوگ متار ہوئے

سنہ 2016 کی پہلی شش ماہی کے دوران نقل مکانی کرنے والے ایک کروڑ سے زائد افراد نے دنیا بھر میں ترک وطن کیا، جن میں شام، یمن اور ترکی سے ہجرت کرنے والے سر فہرست ہیں۔ یہ بات داخلی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے مرکز (آئی ڈی ایم سی) نے بتائی ہے۔

ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے اگست کے دوران مسلح تنازع کے نتیجے میں شام میں 900000 افراد نے نقل مکانی کی، جب کہ یمن میں 478000 اور ترکی میں یہ تعداد 355000 تھی قدرتی آفات کے نتیجے میں لاکھوں لوگ متار ہوئے، جیسا کہ سیلاب کے باعث چین میں 20 لاکھ جب کہ انڈونیشیا میں 946000 افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

گروپ نے بتایا ہے کہ 16 ملکوں میں لوگوں نےداخلی طور پر نقل مکانی کی، جب کہ تنازع اور تشدد کی کارروائیوں کے نتیجے میں میں اِن چھ کروڑ متاثرین میں سے دو تہائی افراد شامل تھے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کئی مہاجرین کی ابتدا ملک کے اندر بے دخل ہونے کے باعث ہوتی ہے، جنھیں تحفظ اور اعانت درکار ہوتا ہے، تب کہیں وہ ترک وطن کرتے ہیں یا سرحد عبور کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہ اجلاس کے آغاز سے قبل جاری کی گئی ہے، جس دوران مہاجرین اور تارکینِ وطن کے معاملے پر غور ہوگا۔ یہ اجلاس پیر سے شروع ہوگا۔

ادارے نے سربراہ اجلاس کی شرید مذمت کی ہے، چونکہ بقول اُس کے، بین الاقوامی طور پر بے دخل ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کے لیے کہا جا رہا ہے کہ وہ مہاجرین کے عالمی مسئلے کی جڑ ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG