رسائی کے لنکس

پولیو کے خاتمے کی عالمی کوششیں افغانستان اور پاکستان پر مرکوز


افغانستان میں ایک شخص بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

افغانستان میں ایک شخص بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

2015 میں سامنے آنے والے 34 پولیو کیسوں میں سے 28 کیس پاکستان میں سامنے آئے جبکہ باقی افغانستان میں۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ افریقہ میں ایک سال کے دوران پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہ آنے کے بعد اب پولیو کے خاتمے کی عالمی کوششیں افغانستان اور پاکستان پر مرکوز ہیں۔

نائیجیریا کا نام جلد پولیو سے متاثرہ ممالک کی فہرست سے نکال دیا جائے گا، جس کے بعد صرف افغانستان اور پاکستان اس فہرست میں رہ جائیں گے۔ اس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پولیو کے جلد خاتمے کی کوششوں میں تیزی آئے گی۔

2015 میں سامنے آنے والے 34 پولیو کیسوں میں سے 28 کیس پاکستان میں سامنے آئے جبکہ باقی افغانستان میں۔

عالمی ادارہ صحت کے پولیو کے خاتمے کے پروگرام سے وابستہ اولیور روزن باؤر نے کہا کہ ’’پاکستان اور افغانستان کو جتنا جلد ہو سکے اپنا کام مکمل کرنا چاہیئے۔ وہ آگ کا ذریعہ ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ آگ ماضی کی طرح دوبارہ پھیلے۔‘‘

1950 کی دہائی میں ایک ویکسین کی تیاری سے قبل سالانہ ہزاروں افراد اعصابی نظام پر حملہ کرنے والی اس بیماری کا شکار ہوتے تھے جس کے لگنے کے چند گھنٹوں کے اندر جسم ناقابل علاج طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔

یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے خصوصاً بچوں میں اور غیر صحت بخش حالات رکھنے والے جنگ زدہ علاقوں، مہاجر کیمپوں اور ان علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں۔

روزن باؤر نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگی کے باعث نائیجیریا اور صومالیہ کی طرح پاکستان اور افغانستان میں بھی انسداد پولیو کی مہمیں چلانا بہت مشکل ثابت ہوا ہے۔

مگر ان کے بقول پاکستان نے پولیو مہموں کے ذریعے گزشتہ ایک سال کے دوران کافی پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے دیکھا ہے کہ ان قبائلی علاقوں میں بھی معقول تعداد میں بچوں کو ویکسین دی گئی ہے جہاں حکومت کا کنٹرول اور رسائی محدود ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا تخمینہ ہے کہ دنیا میں پولیو کے خاتمے کے بعد اگلے 20 سالوں کے دوران 50 ارب کی عالمی بچت ہو گی مگر ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ ایسا کرنے میں ناکامی سے اگلے دس سالوں کے اندر اندر پولیو کے سالانہ دو لاکھ کیسز سامنے آسکتے ہیں۔

منگل کو صومالیہ میں بھی کسی نئے پولیو کیس کے بغیر ایک سال مکمل ہوا۔ اس سے چھ ہفتے قبل نائیجیریا نے یہ سنگ میل عبور کیا تھا۔

مگر افریقہ کو پولیو سے پاک خطہ قرار دینے کے لیے دو برس مزید انتظار کرنا ہو گا جس دوران پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہ آئے۔ عالمی ادارہ صحت نے دونوں ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ وہ لاپرواہی نہ کریں اور اس بیماری کو دور رکھنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔

XS
SM
MD
LG