رسائی کے لنکس

دنیا بھر میں 15 اکتوبر کوہاتھ دھونے کا عالمی دن منایا جات ہے عالمی سطح پر ہاتھ دھونے کا دن منانے کا مقصد عوام میں گندگی سے جنم لینے والے بیماروں کے حوالے سے اگاہی پیدا کرنا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں سالانہ لاکھوں افراد بیکٹریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ملک میں حالیہ سیلاب میں لاکھوں متاثرہ افراد میں اکثریت بچوں کی ہے جن میں اسہال جیسی بیماری کے پھیلاؤ کا خطر بڑھ گیا ہے۔ مون سون موسم میں بارشوں کے بعد سیلاب سے صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔

دنیا بھر میں اسہال سے مرنے والے بچوں کی سالانہ تعداد 20 لاکھ ہے۔ پاکستان میں اسہال کے سالانہ 2 کروڑ 50 لاکھ کیسز سامنے آتے ہیں۔ ملک میں دست اور پانی کی کمی کے باعث سالانہ پانچ سال سے کم عمر کے116،000 بچے ہلاک ہو جاتے ہیں.

اقوام متحدہ کے ادرہ برائے اطفال کے زیر انتظام جمعہ کو دارالحکومت اسلام آباد میں سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف اسکولوں کے 300 سے زائد طالب علموں اور اساتذہ نے شرکت کی ۔ ’صاف ہاتھ محفوظ زندگی ‘ کے عنوان سے اس تقریب میں سول سوسائٹی سمیت اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی شریک تھے سیمنار کا مقصد اسکولوں کے بچوں کے ذریعے گھروں اور اپنے محلوں میں حفظان صحت کے اصولوں کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کے ڈپٹی نمائندہ کیرن ایلن نے بتایا کہ کھانا کھانے سے پہلے اور ٹائلٹ کے استعمال کے بعد ہاتھ دھونا بیماریوں سے بچاؤ کا سستا حل ہے۔’’ سیلاب سے متاثرہ خاندان اور بچے نامناسب حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔ گندگی دور کرنے کے لیے ہاتھ دھونے جیسے عمل سے بیماریوں کو روکا جا سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے مطابق صابن سے ہاتھ دھونے سے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں دست و اسہال کی بیماری کی شرح 50 فیصد جبکہ سانس کے ذریعے انفکیشن کی شرح 25 فیصد تک کم جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG