رسائی کے لنکس

دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی


عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں

ہفتے کے پہلے دن ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کا آغاز بحرانی صورتِ حال سے ہوا جس نے بعد ازاں یورپی اور امریکی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

چین کے معاشی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کے باعث دنیا بھر کے بازارِ حصص میں شدید مندی جاری ہے جس کے باعث سرمایہ کاروں کے کھربوں ڈالرڈوب گئے ہیں۔

اسٹاک مارکیٹوں کو گزشتہ ہفتے لپیٹ میں لینے والی مندی پیر کو بھی جاری رہی۔ کاروباری ہفتے کے پہلے دن ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کا آغاز بحرانی صورتِ حال سے ہوا جس نے بعد ازاں یورپی اور امریکی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں جب کہ دیگر اشیا اور اجناس کی قیمتوں میں بھی مسلسل کمی آرہی ہے۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں میں مندی کے حالیہ رجحان کی بنیادی وجہ چین کی شرحِ نمو میں حالیہ کمی اور چینی اسٹاک مارکیٹوں کی غیر یقینی صورتِ حال ہے جہاں حکومت کے مداخلت اور انتطامات کے باجود حصص کی قیمتیں حالیہ برسوں کی کم ترین سطح پر جا پہنچی ہیں۔

پیر کو شنگھائی اسٹاک ایکسچینج 5ء8 فی صد نقصان پر بند ہوا جو 2007ء کے بعد ایک روز میں حصص کی قیمتوں میں آنے والی ریکارڈ کمی ہے۔

چینی ذرائع ابلاغ نے ایک روز میں ریکارڈ کی جانے والی اس ریکارڈ کمی کی وجہ سے پیر کو 'بلیک منڈے' کا خطاب دیا ہے۔

لندن کے 'ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس' میں پیر کی دوپہر تک چار فی صد کمی ریکارڈ کی گئی تھی جب کہ فرانس اور جرمنی کے بڑے اسٹاک ایسچینجز میں بھی حصص کی قیمتوں میں چار فی صد سے زائد کی کمی آئی ہے۔

پیر کو کاروبار کے آغاز کے چند منٹ کے اندر ہی نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتیں پانچ فی صد گر گئیں لیکن دن گزرنے کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں گراوٹ کے رجحان میں کچھ کمی آئی ہے۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں میں مندی کی یہ صورتِ حال مزید چند روز تک جاری رہے گی جس کا آغاز چین کی جانب سے اپنی کرنسی یوان کی قدر میں کمی سے ہوا تھا۔

مجموعی طور پر شنگھائی کا 'کمپوزٹ انڈیکس' اب تک نو فی صد گر چکا ہے جب کہ جاپان کا 'ٹوپکس انڈیکس' مسلسل پانچ دن سے خسارے میں ہے جو مارچ 2011ء میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے بعد انڈیکس کی سب سے خراب کارکردگی ہے۔

ہانگ کانگ کے 'ہانگ سانگ انڈیکس' میں بھی حصص کی قیمتیں رواں سال اپریل کی سطح کے مقابلے میں اب تک 25 فی صد گرچکی ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بھی چار فی صد کمی کے ساتھ 45 ڈالر فی بیرل تک گرگئی ہے جو چھ سال کی کم ترین سطح ہے۔ڈالر کےمقابلے میں کئی ملکوں کی کرنسی بھی مسلسل خسارے کی زد میں ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیر عالمی منڈیوں میں خسارے کا مسلسل ساتواں دن تھا۔ ان سات دنوں کے دوران یورپی اور ایشیائی مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں مجموعی طور پر پانچ فی صد کمی ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ عالمی منڈیوں میں گزشتہ چار برسوں کے دوران یہ ریکارڈ گراوٹ ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق چین کی جانب سے یوان کی قدر میں کمی اور اس کےنتیجے میں بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹوں میں پیدا ہونے والے بحران کے باعث اب تک دنیا بھر میں سرمایہ کار 50 کھرب ڈالر سے محروم ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG