رسائی کے لنکس

دنیا بھر میں مسلمانوں کی اکثریت شریعت کے نفاذ کی خواہاں: عالمی سروے


’پیو ریسرچ سنٹر‘ کی جانب سے دنیا بھر میں اڑتیس ہزار مسلمانوں سے انٹرویو کیے گئے۔ ان انٹرویوز میں شامل سوالات کے جوابات پر مبنی ایک رپورٹ مرتب کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی اکثریت شریعت کے نفاذ کی خواہاں ہے

دنیا بھر میں مسلمانوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں جہاں وہ رہتے ہیں، شریعت کا نفاذ ہونا چاہیئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے ملکوں میں دوسرے عقیدوں کے افراد کو مکمل مذہبی آزادی بھی حاصل ہونی چاہیئے۔

واشنگٹن ڈی سی کے ایک تھنک ٹینک ’پیو ریسرچ سنٹر‘ کی جانب سے دنیا بھر میں اڑتیس ہزار مسلمانوں سے انٹرویو کیے گئے۔ ان انٹرویوز میں شامل سوالات کے جوابات پر مبنی ایک رپورٹ مرتب کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی اکثریت شریعت کے نفاذ کی خواہاں ہے۔

اس سروے کے لیے مسلمانوں کی اکثریت والے ممالک کے ساتھ ساتھ وہ ممالک بھی شامل کیے گئے جہاں پر مسلمان اقلیت میں ہیں۔

سروے کا مقصد مذہب اور سیاست کے حوالے سے مسلمانوں کی رائے جاننا تھا۔ اس رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ مشرق ِ وسطیٰ میں رہنے والے دس مسلمانوں میں سے چھ جبکہ افریقی ممالک میں دس میں سے نو مسلمانوں کا کہنا تھا کہ ان کے ممالک میں اسلامی شریعت نافذ کی جانی چاہیئے۔ افغانستان میں یہ شرح 99فی صد ہے۔

’پیو ریسرچ سنٹر‘ سے منسلک جم بیل کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا سروے کرانا ایک دشوار کام تھا کیونکہ ان ممالک میں ان موضوعات پر عموماً گفتگو کرنے سے احتراز برتا جاتا ہے۔

جم بیل کا کہنا تھا کہ دیگر سوالوں کے جواب میں مسلمانوں کا کہنا تھا کہ وہ شریعت کا نفاذ ضرور چاہتے ہیں لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کے ممالک میں بسنے والے غیر مسلموں پر شریعت کا نفاذ درست نہیں ہے۔

’پیو ریسرچ سنٹر‘ کے مطابق مسلمانوں کی اکثریت اس بات پر متفق دکھائی دی کہ دوسرے عقائد اور مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے اپنے مذہب اور عقیدوں کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق ملنا چاہیئے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG