رسائی کے لنکس

عالمی حدت اور آلودگی سے سمندری حیات کو خطرہ

  • ڈیوڈ ایکس

عالمی حدت اور آلودگی سے سمندری حیات کو خطرہ

عالمی حدت اور آلودگی سے سمندری حیات کو خطرہ

عالمی حدت اور آلودگی کے اثرات اب سمندری حیات پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ کے علاقے میں پائی جانے والی ایک خاص مچھلی فلنڈر(flounder)اب وہاں سے ناپید ہوتی جارہی ہے۔وہاں ساحلی علاقے کی تحقیق کے دوران سائنس دانوں کو پتا کہ زیر آب کیچر میں ایسے زہریلے کیمیائی مرکبات موجود ہیں جن پر 50 برس قبل امریکہ میں پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ دنیا کے کئی دیگرساحلی علاقوں کو بھی اسی طرح کی صورت حال کاسامنا ہوسکتا ہے۔

رائنر لوہمن ، یونیورسٹی آف رہوڈآئی لینڈمیں سمندری پانی کی آلودگی پر ایک کورس پڑھاتے ہیں۔وہ ساحلی علاقے کی ان آلودگیوں کا مطالعہ کررہے ہیں جس کا تعلق سمندری کیچڑ میں پائے جانے والے ان کیمیائی اجزا سے ہے جو پانی کے نیچے کیچڑ میں اس جگہ موجود ہیں، جہاں سے دوسری سمندری حیات کی غذا بننے والے کیڑے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ انہیں وہاں پرسینکڑوں کیمیائی اجزا کی موجودگی پتا چلا جن میں جراثیم کش کیمیائی مرکب ڈی ڈی ٹی اور پی وی سی بھی شامل تھے، جن پر 40 برس پہلے امریکہ میں پابندی لگادی گئی تھی۔

رائز لوہمن کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ انہیں پانی کی تہہ میں محفوظ پڑی رہیں ۔ مگر کسی طوفانی دن میں یہ کیچڑ ابل سکتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں یہ کیمیائی مرکبات دوبارہ پانی میں شامل ہوکر مچھلیوں کی خوراک بن سکتے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر چند سال کے بعد امریکہ کا ماحولیات کے تحفظ کا ادارہ مچھلیوں میں پائے جانے والے مضر اجزا کا جائزہ لیتا ہے۔ اور ان اعداد وشمار کی بنیاد پر حکومتی ماہرین یہ ہدایات جاری کرتے ہیں کہ کس مچھلی کا بطور خوراک استعمال محفوظ ہے۔

مچھلیوں کے بطور خوراک استعمال سے متعلق سرکاری ہدایات اس بنیاد پرجاری کی جاتی ہیں کہ یہ مچھلی روزانہ کھانے سے آپ کو کینسر کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ لوہمن کہتے ہیں کہ آلودہ مچھلی کھانے سے انسانی جسم میں جو زہریلے اجزا داخل ہوجاتے ہیں ان کا اثر ختم ہونے میں 20 سے 30 سال تک سکتے ہیں۔ سائنس دان اس خدشے کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ لمبے عرصے تک اس طرح کی آلودہ خوراک کھانے سے زہریلے اجزا ماں سے بچے کو منتقل ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ ہم یہ پتا لگا سکتے ہیں کہ یہ مضر اجزا حقیقتا کس جگہ موجود ہیں۔ ہم بحرالکاہل، بحراوقیانوس اور بحر منجمد شمالی میں اس پر کام کرچکے ہیں ۔ یہ مضر اجزا ہر جگہ موجود ہیں۔

یونیورسٹی آف رہوڈ آئی لینڈکے ماہرین یہ مطالعہ بھی کررہے ہیں کہ پانی کے درجہ حرارت میں اضافے سے اس پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کانڈنس اوویٹ اس حوالے سے 40 سال سے زیادہ عرصے تک سمندر ی پانی پر اس حوالے سے تحقیق کرچکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ایک ڈگری درجہ حرارت بظاہر بہت معمولی لگتا ہے۔لیکن اگر آپ پچھلے برفانی دور کو ذہن میں لائیں جب گلیشیئروں کی بلندترین اور سمندر کی سطح کم ترین تھی،اس وقت سے اب تک درجہ حرارت میں صرف پانچ ڈگری سینٹی گریڈ یا تقریباً دس ڈگری فارن ہائیٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے ایک ڈگری سے بہت فرق پڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہم نے سمندروں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھتے ہیں۔

اوویٹ بارانی طوفان میں 80 فی صد اضافے کی نشان دہی کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں اس سال اپریل میں رہوڈ آئی لینڈکے بڑے علاقوں میں سیلاب آیا جس سے پانی صاف کرنے کے کئی پلانٹس کو نقصان پہنچا۔ جس کے نتیجے میں گند اپانی ، کھاد اور شہری آلودگی بلاروک ٹوک بہہ کر سمندر میں چلی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ آب وہوا کی تبدیلی کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔ ان میں ایک بڑے پیمانے کے وہ بارانی طوفان ہے جس سے ہمیں اس ہفتے تین دنوں میں آٹھ انچ بارش کا سامنا کرنا پڑا۔

اوویٹ کہتی ہیں کہ سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافے اور زیادہ بارشوں کے نتیجے میں کم آکسیجن اور پانی میں غذائی اجزا کی مقدار میں زیادتی ، ایک ایسے مسلسل عمل کو جنم دے سکتی ہے جس کے نتیجے میں بہت سی سمندری حیات ہلاک ہوجائے۔

وہ کہتی ہیں کہ موسم سرما کی ایک مچھلی flounder سردیوں میں انڈے دیتی ہے کیونکہ اس وقت اسے شکاری مچھلیوں کا خطرہ نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر ہم سمندرکا درجہ حرارت بڑھا دیں تو شکارخود مچھلیاں اور دوسرے سمندری جانور فعال ہوکراس کے انڈے اور بچے کھاجائیں گے۔

اوویٹ کہتی ہیں کہ flounder مچھلی کے زیادہ شکار اور سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں اس کی تعداد 75 فی صد تک کم ہوچکی ہے۔ جس سے اس کا تجارتی پیمانے پر شکار ختم ہوگیاہے اور اب تفریحی طور پر کانٹے اور ڈوری کی مدد سے ایک وقت میں صرف دو flounder پکڑے کی اجازت ہے۔

رہوڈ آئی لینڈ کے ساحلی علاقے کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کے باوجود، یونیورسٹی کے ایک اور سائنس دان سکاٹ نکسن کا کہنا ہے کہ اس خلیج کی حالت 50 سال پہلے کی نسبت بہت بہتر ہے جب وہاں دھاتیں ، تیل اور دوسراکچرا براہ راست پھینک دیا جاتا تھا۔ اب وہاں مسائل کی نوعیت مختلف ہے۔

ان کا کہناتھا کہ میرا خیال ہے کہ ساحلی ماحولیات سے متعلق زیادہ تر ماہرین غالباً یہ کہیں گے کہ اب وہاں کے زیادہ پیچیدہ اور بڑے مسائل غذائی آلودگی ، نائٹروجن اور فاسفورس پر مبنی آلودگی ہے جو زرعی شعبے سے وہاں جاتی ہے۔

نکسن کہتے ہیں کہ انہیں توقع ہے کہ ترقی پذیر ملک ہماری غلطیوں سے سکھیں گے اور اس سے پہلے کہ انہیں نقصان کاسامنا کرنا پڑے، اپنے ساحلی علاقوں میں آلودگی کو پھیلنے سے روکیں گے۔

XS
SM
MD
LG