رسائی کے لنکس

تباہی کی جانب ایک قدم اور آگے


تباہی کی جانب ایک قدم اور آگے

تباہی کی جانب ایک قدم اور آگے

معاشی بحران کے نتیجے میں اگرچہ ترقی یافتہ ممالک میں بڑی تعداد میں صنعتیں بند ہونے سے کاربن ڈائی اکسائیڈ گیس کا اخراج نمایاں طورپر کم ہوا ہے ، مگر دوسری جانب نئی ابھرتی ہوئی معیشتوں، بالخصوص چین اور بھارت کی صنعتی ترقی اور پھیلاؤ کے باعث وہاں کاربن گیسوں کے اخراج میں تخمینوں سے زیادہ اضافہ ہوا، جس نے ترقی یافتہ ملکوں میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی کمی کے اثر کو زائل کردیا۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ موجودہ سال ، جب سے موسم کا ریکارڈ رکھا جانے لگاہے، تاریخ کا گرم ترین سال ہے۔

بات صرف موسم کے گرم اور سرد ہونے تک ہی محدود نہیں ہے۔ اگر تبدیلی کا یہ عمل اسی طرح جاری رہتاہے تو آنے والے عشروں میں کرہ ارض رہنے کے قابل نہیں رہے گا ۔ نباتات اور حیات کی اکثر اقسام ناپید اور انسان کے لیے زندگی دشوار تر ہوجائے گی۔

سائنس دان اس تبدیلی کا ذمہ دار حضرت انسان کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے ، جو اسی شاخ کو اپنے ہاتھوں سے کاٹ رہاہے، جس پر وہ خود بیٹھا ہے۔

ماحولیات کے ماہرین کا کہناہے کہ آب وہوا میں تبدیلی کی بڑی وجہ کاربن گیسوں کا اخراج ہے جو ترقی یافتہ ممالک کے کارخانوں کی چمنیاں بڑی مقدار میں اگل رہی ہیں۔ جب کہ ترقی یافتہ ممالک کا کہناہے کہ وہ تو شفاف ایندھن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس تباہی کے ذمہ دار ہیں چین اور بھارت جیسے تیزی سے صنعتی ترقی کرتے ہوئے ممالک، جو اپنی صنعت کاپہیہ چلانے کے لیے کوئلہ اور خام تیل استعمال کررہے ہیں ، جس سے بڑی مقدار میں کاربن گیسیں خارج ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزترصنعتی ترقی ،چین اور بھارت جیسے ترقی پذیر ملکوں کے عوام کی زندگیوں میں خوش حالی اور دولت کی فراوانی تو آرہی ہے مگر وہ پوری دنیا کو تباہی کی سمت بھی دھکیل رہی ہے۔ کیونکہ کاربن گیسوں کی بلند ہوتی ہوئی سطح سے کرہ ارض کے قدرتی نظام میں خلل پڑرہاہے اور عالمی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہاہے۔

عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے قطبین پر برف کی صدیوں پرانی پرتیں تیزی سے پگھل رہی ہیں۔ سمندروں کی سطح بلند ہورہی ہے۔ کئی ساحلی علاقوں اور ملکوں کے ڈوبنے کا خطرے مسلسل بڑھ رہاہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آب و ہوا کی یہ تبدیلی کرہ ارض پر موجود حیات کی تمام اقسام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے 29 نومبر کو میکسیکو کے شہر کینکون میں بین الاقوامی کانفرنس شروع ہورہی ہے ۔دو ہفتے تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں دنیا کے تقریبا دو سو ممالک کے مندوبین شریک ہیں۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد ماحول کے تحفظ کے لیے 1997ء کے معاہدے کیوٹو پروٹوکول کی توسیع اور 2012ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی لانا ہے۔یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میٕں ہو رہی ہے جب سائنس دان اور ماہرین اس سال کو انیسویں صدی سے اب تک کا گرم ترین سال قرار دے رہے ہیں۔

ایک تازہ ترین مطالعاتی جائزے سے ظاہر ہواہے کہ اس سال کاربن ڈائی اکسائیڈ گیس کے اخراج میں ریکارڈ اضافہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ عالمی سطح پر معاشی بحالی کا عمل ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی ایکسٹر میں ہونے والی اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگرچہ دو برسوں سے عالمی معیشت سست روی اور کسادی کے دور سے گذررہی ہے ، لیکن اس کے باوجود کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی اندازوں سے کہیں کم رہی ۔

مطالعاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ معاشی بحران کے نتیجے میں اگرچہ ترقی یافتہ ممالک میں بڑی تعداد میں صنعتیں بند ہونے سے کاربن ڈائی اکسائیڈ گیس کا اخراج نمایاں طورپر کم ہوا ہے ، مگر دوسری جانب نئی ابھرتی ہوئی معیشتوں، بالخصوص چین اور بھارت کی صنعتی ترقی اور پھیلاؤ کے باعث وہاں کاربن گیسوں کے اخراج میں تخمینوں سے زیادہ اضافہ ہوا، جس نے ترقی یافتہ ملکوں میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی کمی کے اثر کو زائل کردیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مثال کے طورپر 2009ء میں برطانیہ میں کاربن گیسوں کا اخراج 2008ء کے مقابلے میں 8.6 فی صد کم تھا ، جب کہ امریکہ میں یہ کمی 6.9 فی صد، جاپان میں11.8 فی صد، جرمنی میں 7 فی صد اور روس میں 8.4 فی صد ریکارڈ کی گئی ۔ لیکن دوسری جانب چین میں ، جہاں بڑے پیمانے پر صنعتی پھیلاؤ جاری ہے، اسی مدت میں کاربن گیسوں کے اخراج میں 8 فی صد ، بھارت میں 6.2 فی صد اور جنوبی کوریا میں 1.4 فی صد اضافہ ہوا۔

ماحولیات کے ماہرین نے پچھلے سال یہ اندازہ لگایا تھا کہ عالمی سطح پر جاری معاشی سست روی کے باعث دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج 2.8 فی صد تک کم ہوجائے گا۔ لیکن یہ کمی مخص 1.3 فی صد رہی۔

جریدے ’’نیچر جیو سائنس ‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے متعلق لگائے جانے والے ماہرین کے اندازوں کو چین، بھارت اور دیگرابھرتی ہوئی معیشتوں کی تیز تر صنعتی ترقی نے غلط ثابت کردکھایا۔ کیونکہ یہ ممالک اپنی صنعتیں چلانے کے لیے شفاف توانائی کی بجائے اب بھی زیادہ تر کوئلے، خام تیل اور زیادہ مقدار میں کاربن گیسیں خارج کرنے والے ایندھن پر انحصار کررہے ہیں۔

ایکسٹر یونیورسیٹی سے تعلق رکھنے والے پائر فرائڈلین سٹین نے، جنہوں نے اس مطالعاتی جائزے کی قیادت کی ، کہنا ہے کہ اگر موجودہ تخمینوں کے مطابق معاشی ترقی کی رفتار برقرار رہی تو 2010ء میں عالمی سطح پر کاربن گیسوں کے اخراج میں تین فی صد سے زیادہ اضافہ ہو گا اور اس سال عالمی حدت کا سبب بننے والی گیسوں کی سطح 2000ء کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ ہوگی۔

XS
SM
MD
LG