رسائی کے لنکس

جی ایم سید کا یوم پیدائش منانے میں صوبے کی قوم پرست جماعتیں سب آگے تھیں۔ لہذا، انہوں نے اس دن کی مناسب سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا، جبکہ کراچی سمیت صوبے بھر میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے

صوبہٴسندھ اور جی ایم سید کا نام ایک دوسرے کا انمٹ حوالہ ہیں۔ صوبے کی سیاست جی ایم سید کے ذکر کے بغیر نہ شروع ہوتی ہے اور نہ ختم۔ وہ آج سے 110سال پہلے 17جنوری 1904ء کو سندھ کے علاقے سن میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کا یوم پیدائش جمعہ کو سندھ بھر میں بڑی عقیدت اور پوری روایات کے ساتھ منایا گیا۔

جی ایم سید کا یوم پیدائش منانے میں صوبے کی قوم پرست جماعتیں سب آگے تھیں۔ لہذا، انہوں نے اس دن کی مناسب سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا، جبکہ کراچی سمیت صوبے بھر میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔

سب سے بڑا اجتماع سن میں’سائیں‘ جی ایم سید کے مزار سے منسلک گراوٴنڈ میں منعقد ہوا۔ اجتماع میں مختلف قوم پرست جماعتوں نے شرکت کی، جن میں جئے سندھ قومی محاذ (قریشی گروپ)، جئے سندھ قومی محاذ (آریسر گروپ)، جئے سندھ متحدہ محاذ، جئے سندھ تحریک (سرکی گروپ)، جئے سندھ تحریک (چاچڑ گروپ) اور جئے سندھ محاذ (ریاض گروپ) شامل تھی۔

تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے الگ الگ جلسے بھی منعقد ہوئے، جبکہ سن شہر کو جی ایم سید کی تصاویر، اقوال اور لال جھنڈیوں سے دلہن کی ماند سجایا گیا تھا۔

جامشورو اور سن شہر سمیت مختلف علاقوں اور قصبوں میں قومی شاہراوٴں پر قوم پرست پارٹیوں کی جانب سے اسقبالی کیمپ قائم کئے گئے ہیں، جن میں پارٹی کارکنوں اور جی ایم سید کے مداحوں کی آمد کا سلسلہ ایک رات پہلے شروع ہوگیا تھا۔ ان افراد نے آج جی ایم سید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

سندھ کے عظیم رہبر، ’سائیں‘جی ایم سید کی زندگی پر ایک نظر

جی ایم سید17 جنوری 1904ء کو سید محمد ہاشم کے گھر پیدا ہوئے۔ان کا نام سید غلام مرتضیٰ رکھا گیا۔ لیکن، وہ جی ایم سید کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے استاد دھرم داس، ریوا چند اور استاد وسن مل سے حاصل کی۔ عربی اور فارسی کی تعلیم محمد ہاشم سنائی، مولوی محمد صالح سیال اور االلہ بخش داوٴدی سے حاصل کی۔ قرآن شریف آخوند میاں سمن میمن اور انگریزی حامد علی ھالائی سے حاصل کی۔

انہوں نے 17مارچ 1920ء کو اپنے آبائی شہر سن میں ’خلافت کانفرنس‘ کا اجلاس بلوا کر عملی سیاست میں قدم رکھا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی بڑے بڑے سیاستدانوں سے ملاقاتیں کی۔

جی ایم سید جدید بھارت کے بانی مہاتما گاندھی سے متاثر تھے۔27 اپریل 1941ء میں سن اسیٹشن پر مہاتما گاندھی سے انہوں نے باقاعدہ ملاقات بھی کی تھی۔

سن 1928میں سندھ میں بمبئی سے علیحدگی کی تحریک چلی تو شروعات میں تین بڑی کانفرنسیں ہوئیں، جن میں جی ایم سید نے برطانوی سامراج کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ سندھ کو بمبئی کے ساتھ ملانا غیر قانونی اور غیر اخلاقی فیصلہ تھا۔

انہوں نے سندھ کے ہاریوں کو ان کے حقوق دلانے کے لئے 1930ء میں سن میں ’سندھ ہاری کانفرنس‘ بھی منعقد کری۔

وہ 1937ء میں پہلی بار سندھ قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی دعوت پر وہ مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور1942ء میں مسلم لیگ سندھ کے صدر منتخب ہوئے۔

وہ صرف ایک سال بعد، سندھ اسمبلی سے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کروانے میں بھی کامیاب رہے۔

تاہم 1942ء میں جی ایم سید نے مسلم لیگ سے استعفیٰ دے دیا اور اپنی علیحدہ پارٹی ’پروگریسو مسلم لیگ‘ کی بنیاد رکھی۔

تاہم، 1971ء میں وہ ملک کی سیاست سے مایوس ہوگئے اور سندھ کے عوام کیلئے حق خود اردیت کا اعلان کیا۔ اسی سلسلے میں، سن 1973ء میں انہوں نے ’جئے سندھ تحریک‘ نامی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

بیماری کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ 25اپریل 1995ء کو اس دنیا سے کوچ کرگئے۔

اُنہیں منجھا ہوا سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی ورکر، ادیب، مفکر، فلسفی، صوفی، ماہر تعلیم اور منتظم تسلیم کیا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG