رسائی کے لنکس

پہلے انسانی بکرے نے اگنوبیل انعام جیت کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان بکرا بننے کی پوری اہلیت رکھتا ہے ۔ وہ اس کی طرح نہ صرف چار ٹانگوں پر آسانی سے چل پھر سکتا ہے، ڈھلوانوں پر بکرو ں کی طرح چڑھ سکتا ہے بلکہ وہ انہی کی طرح ہاتھوں کا استعمال کیے بغیر گھاس پر منہ مار سکتا ہے اور پتے وغیرہ چر سکتا ہے۔

امریکہ کی مشہور اور قدیم یونیورسٹی ہاردرڈ نے اگنوبیل انعام کی اپنی 26 سالانہ تقریب میں تھامس تھویٹیز (Thomas Thwaites) کو انسان سے بکرا بننے اور بکروں کے ایک ریوڑ میں کامیابی کے ساتھ تین دن بسر کرنے پر اگنوبیل انعام سے نوازا ہے۔

اگنوبیل ایوارڈ، سویڈن نے معروف انعام، نوبیل پرائز کے طرز پر دیا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نوبیل پرائز سنجیدہ نوعیت کے کاموں پر ملتا ہے۔ جب کہ اگنوبیل انعام کے لیے دنیا بھر سے ایسے لوگوں کو چنا جاتا ہے جن کی تحقیق ایسی ہو کہ سنتے ہی ہنسی آ جائے۔

1991 میں شروع کیے جانے اس انعام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈ ان موجدوں اور محققین کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے جن کے کار نامے پر پہلے تو ہنسی آتی ہے اور پھر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایوارڈ پانے والوں کی اکثریت دنیا بھر سے سفر کرکے اس مزاحیہ تقریب میں شرکت کے لیے آتی ہے۔

اس سال 22 ستمبر کو ریاست میسا چوسٹس کے شہر کیمبرج میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی کے سینڈرز ہال میں ہونے والے تقریب میں انعام جیتنے والوں میں تھامس تھویٹیز اپنے بکر ے کے کاسٹیوم سمیت شریک ہوئے۔ جب کہ باقی انعام یافت گان بھی اپنی اپنی تخلیقات کے ساتھ اسٹیج پر آئے۔

تھویٹیز یونیورسٹی کالج لندن سے اکنامکس اور بیالوجی سے تعلیم یافتہ ہیں اور رائل کالج آف آرٹ سے انہوں نے ڈیزائنر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

35 سالہ تھویٹیز نے ڈیلی میل کو بتایا کہ انہوں نے سوچا کہ مجھ جیسے بے روزگار برطانوی شخص کو لندن چھوڑ کر سوئٹزرلینڈ کے پہاڑوں پر ایک بکرے کی طرح اپنی زندگی گذارنی چاہیے۔ بکرا بننے کے لیے انہوں نے بکرے کی جسمانی ساخت پرتحقیق کی اور اس کے مطابق مصنوعی ٹانگیں ڈیزائن کیں تاکہ وہ بکرے کی طرح نظر آئے اور انہین بکروں ہی کی طرح رہنے اور چلنے پھرنے میں آسانی ہو۔

ایک ایسی دنیا میں جس میں ہر کوئی شیر بن کر رہنا چاہتا ہے، انہوں نے بکرا بننے کا ہی کیوں سوچا ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شیر اپنی راجدھانی میں کسی دوسرے شیر کی دخل اندازی پسد نہیں کرتا اور وہ دوسرے شیر کے ساتھ وہ سلوک بھی نہیں کرتا جو اسکندر نے پورس سے کیا تھا۔ جب کہ بکرا ایک شریف النفس جانور ہے اور اس کے ریوڑ میں ہنسی خوشی وقت گذارا جا سکتا ہے۔

لیکن تھویٹیز کہتے ہیں کہ بکرے بھی کچھ اتنے شریف نہیں ہوتے۔ ان کی برسوں پر محیط تحقیق، محنت اور بکرے جیسا دکھائی دینے پر اٹھنے والے اخراجات کے باوجود بکرے انہیں اجنبی سمجھتے رہے اور ان سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہے۔ ہاں البتہ ایک دو بکروں نے ان کی جانب دوستانہ نظروں سے دیکھا خاص طورپر اس وقت جب وہ ہری ہری گھاس چر رہے تھے۔

اس دیڈیو میں انہیں بکروں کے ساتھ رہتے، پہاڑی ڈھلوانوں پر چڑھتے اور ان کی ہی طرح گھاس کھاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

نوبیل پرائز حاصل کرنے والوں کو کئی لاکھ امریکی ڈالر انعام میں ملتے ہیں۔ اس مرتبہ پہلی بار بار اگنوبل نے بھی انعام جیتنے والوں کو زمبابوے کے دس ٹریلن ڈالر کا نوٹ کیش ایوارڈ کے طور پر دیا۔ لیکن مقدر کی ستم ظریفی دیکھیئے کہ اس کرنسی نوٹ کی قیمت محض 40 امریکی سینٹ کے مساوی ہے۔

اگنوبل کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ ایوارڈ نوبیل انعام یافتہ گان کے ہاتھ سے تقسیم کرایا جاتا ہے۔ اس سال دس مختلف شعبوں میں غیر سنجیدہ تحقیق پر انعامات دیے گئے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG