رسائی کے لنکس

جولان کی پہاڑیوں پر امن فوج کا قیام جاری رہے گا، اقوام متحدہ

  • انجم گل
  • لیری فرائنڈ

جولان کی پہاڑیوں پر امن فوج کا قیام جاری رہے گا، اقوام متحدہ

جولان کی پہاڑیوں پر امن فوج کا قیام جاری رہے گا، اقوام متحدہ

کئی روز کی پسِ پردہ بات چیت کے بعد سلامتی کونسل نے ایک باضابطہ اجلاس طلب کیا تاکہ ایک قرار داد کے ذریعے اقوام متحدہ کی امن فوج کے قیام میں دوبارہ ،مزید چھ ماہ کی توسیع کر دی جائے۔ U.N. Disengagement Observer Force نامی اس فوج کا قیام سن انیس سو چو ہتر میں اسرائیل اور شام کے درمیان، جنگ بندی قائم رکھنے کے لئے عمل میں آیا تھا۔

ایک بار پھر ، کھلے عام امن فوج کے قیام میں توسیع سے متعلق قرارداد پر رائے شماری اور اِسےمتفقہ طور پر منظور کرنے سے پہلے ،کونسل نے بند دروازے کے پیچھے مزید بات چیت کی۔

اس تاخیرسے، کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے پانچ مستقل ارکان کے درمیان اختلافات کا پتہ چلتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، اور فرانس نے شام میں تشدد سے متعلق الفاظ قرارداد میں شامل کرنے پر زور دیا تھا۔ روس اور چین نے یہ کہہ کر اس بات کی مخالفت کی تھی کہ یہ شام کا اندرونی مسئلہ ہے۔

برطانوی نمائندے فلپ پارہام کا کہنا تھا کہ شام کی حکومت نے اصلاحات سے متعلق جائز مطالبات کا جواب ،بے رحمانہ طاقت کے استعمال سے دیا ہے۔فلپ کا کہنا ہے:

“شام کی صورتحال جوں کی توں نہیں رہ سکتی۔ اگر ہم واقعی تشدد کا خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں ، تو پھر اس کونسل کوہماری مشترکہ تشویش کے حوالے سے ایک واضح پیغام بھیجنا چاہئیے۔”

اس کے بر عکس روس کے نمائندے الیگزینڈر پین کِن نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ منظور کردہ قرارداد سے صرف اقوام متحدہ کی امن فوج کے قیام میں توسیع کی گئی ہے۔ مترجم کے ذریعے بات کرتے ہوئے اُنکا کہنا تھا کہ کونسل کو اِس حد تک ہی جا نا چاہئیے۔ الیگزینڈر کا کہنا ہے:

“جس قرارداد کو آج روس کی حمایت سے منظور کیا گیا ہے ، اپنے اندر ذرا تکنیکی نوعیت کی ہے اور اس کا شام یا اسرائیل کی سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شام ، سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نہیں ہے کیونکہ وہ عالمی امن اور سلامتی کے لئے خطرہ نہیں ہے۔”

امریکہ کی جانب سے بات کرتے ہوئے ، سفیر روز میری ڈی کارلو نے شام کی حکومت کی جانب سے عوام پر بے رحمانہ جبر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ روز میری کا کہنا ہے:

“شام کے عوام نے جمہوریت کی جانب تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ شام کی حکومت کو مظاہرین پر گولی چلانا بند کرنا چاہئیے اور پر امن مظاہروں کی اجازت دینی چاہئیے۔ اِسے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا چاہئیے اور ناجائز گرفتاریاں اور تشدد بند کرنا چاہئیے۔”

سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد میں پندرہ مئی اور پانچ جون کو ہونے والے سنگین واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اِن سے طویل عرصے سے قائم جنگ بندی خطرے کا شکار ہو گئی تھی۔

اس قرارداد میں فریقین سے کہا گیا ہے کہ تحمل کا ٕمظاہرہ کریں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے سے گریز کریں۔

XS
SM
MD
LG