رسائی کے لنکس

یروشلم کے قدیم شہر میں عیسائی زائرین نے اُس راستے کا پیدل سفر کیا، جِس کے لیے کہا جاتا ہے کہ مصلوب ہونے سے قبل، یسوح مسیح نے اُسی راستے کا سفر کیا تھا۔

دنیا بھر کی مسیحی برادری نے جمعے کو ’گُڈ فرائیڈے‘ کی تقاریب میں شرکت کی، جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مصلوب کیے جانے کا مذہبی تہوار ہے۔

یروشلم کے قدیم شہر میں عیسائی زائرین نے اُس راستے کا پیدل سفر کیا، جِس کے لیے کہا جاتا ہے کہ مصلوب ہونے سے قبل، یسوح مسیح نے اُسی راستے کا سفر کیا تھا۔

اُنھوں نے لکڑی سے تیارکردہ صلیب اٹھا رکھا تھا، اور 14 روایتی مقامات پر رُکتے ہوئے آگے بڑھے؛ اور یہ قافلہ ’مقدس سپلکر‘ کے قدیمی کلیسا پر جا کر ختم ہوا۔

روایات میں آتا ہے کہ یہ چرچ اُسی مقام پر بنائی گئی تھی، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا گیا تھا، دفن کیا گیا تھا، پھر سے زندہ ہوئے تھے۔

مصلوب ہونےکی روایت کو تازہ کرنے کے لیے، شمالی فلپینز میں سالانہ تہوار مناتے ہوئے عقیدتمند لکڑی سے تیار کردہ صلیب پر چڑھے اور کیلوں کونصب کیا گیا، جِس منظر کوموجود ہزاروں افراد سے دیکھا۔

چرچ کے رہنما اور صحت سے متعلق حکام واقعے کی ایسی باریک ڈرامائی نقل کی اجازت نہیں دیتے۔

ویٹیکن میں، پوپ فرینسز نے سینٹ پیٹرز بسیلیکا میں منعقد ہونے والی ’پیشئن آف دِی لارڈ‘ کی تقریب میں شرکت کی۔

ویٹیکن کے سرکاری داعی، فادر ریناتو کنتالمسا نے واعظ دیا اور دعائیہ کلمات ادا کیے۔ ایسا موقعہ سال بھر میں چند ہی بار آتا ہے جب پوپ خود واعظ سنتے ہیں، بجائے دعائیہ کلمات ادا کرنے کے۔

اتوار کے دِن، پوپ ’ایسٹر ماس‘ کی قیادت کریں گے۔ ایسٹر وہ دِن ہے، جب مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ ،حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر سے زندہ ہوئے۔
XS
SM
MD
LG