رسائی کے لنکس

ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کار، کسی موٹر کمپنی نے نہیں بلکہ انٹرنیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن کی مالک کمپنی، گوگل نے تیار کی ہے۔ اس کا مقصد سڑکوں کے سفر کو محفوظ بنانا اور حادثات کو روکنا ہے۔

کیا آپ ایک ایسی کار کا تصور کرسکتے ہیں جسے چلانے کےلیے ڈرائیور کی ضرورت نہ ہو۔ اور اس کے جی پی ایس میں پتا ڈالتے ہی چلنا شروع کردے۔ سڑک پر وہ اپنی لین میں رہےاور بوقت ضرورت کسی کی مدد کے بغیر اپنی لین خود تبدیل کرے، ٹریفک کے اشاروں کو سمجھے اور ان کی پابندی کرے، دوسری گاڑیوں سے محفوظ فاصلہ قائم رکھے اور آپ کو بحفاظت اپنی منزل مقصود پر پہنچا دے۔

ممکن ہے کہ آپ اس پر قہقہ لگائیں یا مسکراتے ہوئے اسے سائنس فکشن قرار دیں۔ لیکن یہ فکشن اب حقیقت میں بدل چکاہے اور کئی امریکی شہروں میں بغیر ڈرائیور کی کاریں دوسری گاڑیوں کے درمیان سڑکوں پر دکھائی دے رہی ہیں۔

گوگل کار

گوگل کار


دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کار، کسی موٹر کمپنی نے نہیں بلکہ انٹرنیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے تیار کی ہے ۔ اور اس کا مقصد سڑکوں کے سفر کو محفوظ بنانا اور حادثات کو روکنا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ یہ سوچیں کہ ڈرائیور کی مدد کے بغیر کوئی بھی گاڑی خود کو کسی حادثے سے کیسے بچا سکتی ہے، جب کہ اکثر حادثے دوسروں کی غلطی سے ہوتے ہیں۔ مگر گوگل کار سفر کے دوران دوسری گاڑیوں پر بھی نظر رکھتی ہے اوران کی غلطیوں سے خود کو بچاتی ہے۔

اس سال اگست میں گوگل کار پراجیکٹ کے انجینئرز نے اعلان کیا تھا کہ ان کی بغیر ڈرائیور کی گاڑیاں ، کسی بھی حادثے کا سامنا کیے بغیر چار لاکھ80 ہزار کلومیٹرکا فاصلہ طے کرچکی ہیں۔اس کار پراجیکٹ میں تقریباً ایک درجن گاڑیاں شامل ہیں جن میں نصف ٹویوٹا کی ہائی بریڈ کار Prius ہے جب کہ دوسری کاروں میں اوڈی اور لیکسز شامل ہیں۔

بغیر ڈرائیور کی گاڑی کا تصور نیا نہیں ہے۔ امریکہ کے شہری علاقوں میں اکثرمیٹرو ریل گاڑیوں میں کوئی ڈرائیور نہیں ہوتا اور انہیں کمپیوٹر کے مرکزی نظام کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔لیکن چونکہ ریل گاڑی پٹری پر چلتی ہے ، جس پر کسی دوسری گاڑی کے آنے کا امکان کم ہوتا ہے ، اس لیے انہیں کسی کنٹرول روم سے چلانا آسان ہوتا ہے ، لیکن سڑک کی ٹریفک کا معاملہ یکسر مختلف ہے، جس پر دوسری گاڑیاں بھی ہوتی ہیں، ٹریفک سگنلز بھی اور جہاں موڑ بھی آتے ہیں اور لین بھی تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

گوگل کار شاہرہ پر

گوگل کار شاہرہ پر


گوگل کار پراجیکٹ کئی حصوں پر مشتمل ہے ، جس میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، سڑک کی لین اور دوسری گاڑیوں پر نظر رکھنے والے سینسر، جی پی ایس سیٹلائٹ لنک، ٹریفک سگنلز، موڑ اور سڑک کی صورت حال کو محسوس کرنے والے آلات نصب ہیں۔ اب تک کے تجربات کے دوران کار میں دوماہرین بھی سوار ہوتے تھے ، لیکن ان کا کام گاڑی چلانا نہیں بلکہ اس کی کارکردگی پر نظر رکھنا اور خامیوں کو نوٹ کرناتھا تاکہ اس پر قابو پانے کی ٹیکنالوجی تیار کی جاسکے۔

گوگل کار امریکی شہر سان فرانسیسکو کی سڑک، لامبرڈ سٹریٹ پر بھی اپنی کامیاب کارکردگی کا مظاہرہ کرچکی ہے۔ اس سڑک کو امریکہ بھر کی سب سے دشوار گذار سڑک سمجھاجاتا ہے ۔ اس راستے پر گاڑی کو قدم قدم پر انتہائی دشوار موڑوں پر سے گذرنا پڑتا ہے۔ جب کہ یہ کار سان فرانسیسکو کی ٹریفک جام شاہروں پربھی اپنی آزمائش میں سرخرو رہی ہے۔

کار کی کامیاب کارکردگی کے پیش نظر تین امریکی ریاستوں یعنی نیویڈا، فلوریڈا اور کیلی فورنیا نے اپنے ٹریفک قوانین میں تبدیلی کرکے بغیر ڈرائیو کی گاڑیاں چلانے کی گنجائش پیدا کی ہے اور اس سال مئی میں ریاست نیویڈا نے ڈرائیور کے بغیر گاڑی چلانے کا باقاعدہ لائسنس جاری کیا۔

گوگل کار مصروف سڑک پر

گوگل کار مصروف سڑک پر


گوگل کی تقلید میں کئی اور موٹر ساز کمپنیوں نے اپنی موٹرگاڑیوں میں ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا ہے جو جزوی طورپر ڈرائیور کے فرائض سنبھال لیتی ہے۔ پچھلے سال فورڈ نے اپنے کئی ایسے ماڈل پیش کیے تھے جن میں ان کے دعویٰ کے مطابق سفر کے دوران ڈرائیو کچھ دیر کے لیے سڑک سے اپنی توجہ ہٹا کر فون کرسکتا ہے ۔ کار کے ریڈیو پر اپنی پسند کا ریڈیو اسٹیشن ڈھونڈ سکتا ہے۔ ٹیکسٹ میسج پڑھ کر اس کا جواب دے سکتاہے اور گاڑی میں موجود دوسرے لوگوں سے گپ شپ کرسکتا ہے۔ اس دوران کمپیوٹرائزڈ خود کار نظام گاڑی کو اپنی لین کے اندر اور دوسری گاڑیوں سے اس کا فاصلہ بھی قائم رکھتا ہے۔

فورڈ کی گاڑی میں ایک اور نمایاں چیز پارکنگ کا خود کار نظام ہے۔اکثر امریکی شہروں میں گاڑی پارک کرنا کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ اکثر سڑکوں کے کنارےزیادہ تر متوازی پارکنگ کرنا پڑتی ہے اور اگر دوگاڑیوں کے درمیان موجود جگہ تنگ ہو تو یہ پارکنگ اور بھی دشوار ہوجاتی ہے۔فورڈ کے خودکار پارکنگ نظام کی گاڑی میں آپ کسی بھی گلی میں داخل ہوتے وقت پارکنگ کا بٹن دبا دیں۔گلی سے گاڑی گذرنے کے دوران خود کار نظام یہ تعین کرلے گا کہ کس مقام پر دوگاڑیوں کے درمیان اتنی جگہ موجود ہے جہاں آپ کی گاڑی پارک کی جا سکتی ہے۔ وہاں پہنچنے کےبعد آپ باقی کام گاڑی پر چھوڑ دیجیئے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس جگہ گاڑی صرف 37 سیکنڈ میں خود بخود پارک ہوجائے گی۔

گوگل کاروں کا بیڑہ

گوگل کاروں کا بیڑہ


اس سال کئی دوسری امریکی اور جاپانی موٹر کمپنیوں نے بھی نیم خود کار نظام سے لیس اپنے کئی ماڈل فروخت کے لیے پیش کیے ہیں۔ جن سے ڈرائیور پر دباؤ کم کرنے اور سفر کو محفوظ اور آرام دہ بنانے میں مدد ملے گی۔

گوگل کار اور اس دوڑ میں دوسری موٹر کمپنیوں کی شرکت کے بعد اب وہ دن کچھ زیادہ دور نہیں رہا کہ آپ کار میں بیٹھنے کے بعد اسے اپنی منزل کا پتا بتاکر چلنے کے لیے کہیں گے اور سفر کے دوران آپ مزے سے کوئی کتاب پڑھیں گے، یا انٹرنیٹ پر اپنی پسند کی چیزیں دیکھیں گے ، یا فون پر گفتگوکریں گے ، یا کچھ دیر آنکھیں موندھ کرسستائیں گے اور اسٹیئرنگ کوہاتھ لگائے بغیر بحفاظت منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG