رسائی کے لنکس

چین:گوگل کے لائسنس کی تجدید ایک سوالیہ نشان

  • پیٹر سن

گوگل کا بیجنگ آفس

گوگل کا بیجنگ آفس

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان شین گانگ انٹرنیٹ سینسر شپ کے حوالے سےپہلے ہی سختی سے خبردار کرچکے ہیں۔ اپنے ایک ترجمان کی وساطت سے انہوں نے کہا تھا کہ گوگل اور دوسری غیر ملکی انٹرنیٹ کمپنیوں کو لازمی طورپر چینی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں چین میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر یہ زور دوں گا کہ وہ قانون کے دائرے کے اندر کام کریں اور انٹرنیٹ کا انتظام چینی قانون کے مطابق چلائیں۔

چین میں آج بدھ کے روزانٹرنیٹ صارفین اور گوگل کے عہدے دار اپنی سانسیں روکے چینی حکومت کے اس فیصلے کے منتطر ہیں کہ آیا وہ اس معروف امریکی سرچ انجن کے اپنے ملک میں کام کرنے کے لائسنس کی تجدید کرتے ہیں یا نہیں، کیونکہ گذشتہ کچھ عرصے سے انٹرنیٹ کی آزادیوں کے حوالے سےگوگل اور چینی عہدے داروں کے درمیان کشیدگی چلی آرہی ہے۔

گوگل کو توقع ہے کہ چین میں اس کے ہوم پیج میں ایک چھوٹی مگر نمایاں تبدیلی ، انٹرنیٹ کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ میں اس کا کاروبار بچانے کے لیے کافی ہوگی۔

گوگل یہ اعلا ن کرچکا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کےدوران اس کے ہانگ کانگ میں قائم سینسر کی پابندیوں سے آزاد ویب سائٹ پر چینی صارفین کا وزٹ ایک خود کار نظام کے تحت روک دیا جائے گا۔

نئے منصوبے کے تحت، اب انٹرنیٹ استعمال کرنے والے چینی صارفین ، جب کسی ریسرچ کے لیے گوگل کی ویب سائٹ پرجانا چاہیں گے تو ان کے لیے گوگل کا سینسرشدہ چینی ہوم پیج کھلے گا، جس پر ان کے لیے ہانگ کانگ کے ہوم پیج پر جانے کا انتخاب بھی موجود ہوگا۔

گوگل کو، جس کے چین کے لیے لائسنس کی تجدید ہونا ہے،بیجنگ کی جانب سے اپنے لائسنس کی منسوخی کے خطرے کا سامنا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے چینی صارفین کے لیے گوگل کے ہانگ کانگ ہوم پیج پر خود کار نظام کے ذریعے منتقلی ، بیجنگ کے انٹرنیٹ کے سخت قوانین کو توڑنے کے مترادف ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بدھ کی شام تک لائسنس کے اجرا کے بارے میں کوئی اعلان کرے گی۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان شین گانگ انٹرنیٹ سینسر شپ کے حوالے سےپہلے ہی سختی سے خبردار کرچکے ہیں۔

اپنے ایک ترجمان کی وساطت سے انہوں نے کہا تھا کہ گوگل اور دوسری غیر ملکی انٹرنیٹ کمپنیوں کو لازمی طورپر چینی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میں چین میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر یہ زور دوں گا کہ وہ قانون کے دائرے کے اندر کام کریں اور انٹرنیٹ کا انتظام چینی قانون کے مطابق چلائیں۔

گوگل اور چینی حکومت کے درمیان سینسر کی پابندیوں کے حوالے سے پچھلے کئی مہینوں سے ایک تلخ تنازع جاری ہے۔

مارچ میں گوگل نے انٹرنیٹ پر موجود اس مواد تک رسائی روکنے سے انکار کردیاتھا جسے بیجنگ حساس خیال کرتا ہے۔

اس نے چین میں اپنی سائٹ بند کردی تھی اور اپنے انٹرنیٹ صارفین کو اپنے ہانگ کانگ کے پیج پر منتقل کرنا شروع کردیاتھا۔

چین میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 40 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور ان میں سے اکثر گوگل پر یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ چینی قوانین کی پابندی کرے۔کتابوں کے ایک سٹور میں کام کرنے والے لیو کا کہنا ہے کہ وہ گوگل کی سائٹ استعمال کرتا ہے، تاہم کمپنی کوچاہیے کہ وہ چینی قوانین کا احترام اور اس پر عمل کرے۔

ایک ریستوان کے منیجر یو لانگ سیا کا خیال ہے کہ چین کی مارکیٹ چھوڑنے سے گوگل کے بزنس کو بہت نقصان ہوسکتا ہے۔کیونکہ گوگل کے جانے کے بعد دوسرے انٹرنیٹ انجن اس کی جگہ لے لیں گے اور گوگل گھاٹے میں رہے گا۔

اپنے ایک بیان میں گوگل نے کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ چینی حکومت کے ساتھ اس کا تعاون لائسنس کی تجدید میں مدد دے گا۔

XS
SM
MD
LG