رسائی کے لنکس

گوگل کا نئی کمپنی 'ایلفابیٹ' قائم کرنے کا اعلان


فائل

فائل

نئی انتظامی تبدیلیوں کے تحت ایسے کئی پروجیکٹس کو باقاعدہ نئی کمپنیوں کی شکل دی جارہی ہے جو پہلے 'گوگل' کی شاخوں اور ذیلی منصوبوں کے طور پر کام کر رہے تھے۔

ٹیکنالوجی کی معروف امریکی کمپنی 'گوگل' نے اپنے ادارتی ڈھانچے میں کئی تبدیلیاں لاتے ہوئے ایک نئی کمپنی 'ایلفابیٹ' کےقیام کا اعلان کیا ہے۔

نئی کمپنی کے قیام کا اعلان 'گوگل' کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو افسر لیری پیج نے پیر کو اپنے ایک بلاگ میں کیا۔

لیری پیج نے لکھا ہے کہ وہ اور 'گوگل' کے دوسرے شریک بانی سرجئی برن 'ایلفابیٹ' کے سربراہ ہوں گے جو 'گوگل' سمیت اس کی تمام ذیلی اور سسٹر کمپنیوں کی نگران ہوگی۔

لیری پیج کے مطابق نئی انتظامی تبدیلیوں کے تحت ایسے کئی پروجیکٹس کو باقاعدہ نئی کمپنیوں کی شکل دی جارہی ہے جو پہلے 'گوگل' کی شاخوں اور ذیلی منصوبوں کے طور پر کام کر رہے تھے۔

گوگل کے تحت شروع کیے جانے والے جو پروجیکٹ اب 'ایلفابیٹ' کے نئے ڈویژنز کے طور پر کام کریں گے ان میں انسانی عمر میں اضافے کے لیے کی جانے والی تحقیق کا شعبہ، مختلف شہروں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے نظام کی تیاری کا منصوبہ، ڈرون کے ذریعے اشیا کی تقسیم و ترسیل کا منصوبہ اور خودکار گاڑیوں کی تیاری کے لیے قائم 'گوگل' کی لیبارٹری شامل ہیں۔

تنظیمِ نو کےتحت 'گوگل' کے بعض معروف اور مشہور شعبے – بشمول انٹرنیٹ سرچ انجن، موبائل ایپلی کیشنز (ایپس)، موبائل آپریٹنگ سسٹم 'اینڈرائڈ' اور 'یوٹیوب' بدستور 'گوگل' کےذیلی شعبوں کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔

سنہ 1998ء میں مشترکہ طور پر 'گوگل' کی بنیاد ڈالنے والے لیری پیج اور سرجئی برن بالترتیب نئی کمپنی 'ایلفابیٹ' کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) اور صدر کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

اپنے بلاگ میں لیری پیج نے نئی کمپنی کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ 'ایلفابیٹ' کے قیام سے اس کے تحت آنے والے تمام ڈویژنز کو اپنی "تخلیقی سرگرمیوں اور کوششوں کے انتخاب اور ان پر عمل درآمد کی آزادی" میسر آئے گی۔

'گوگل' کی جانب سے جو نیا تنظیمی ڈھانچہ متعارف کرایا گیا ہے وہ معروف امریکی سرمایہ کار وارن بفٹ کے کاروبار سے ملتا جلتا ہے جن کی ہولڈنگ کمپنی 'برک شائر ہیتھ اوے' درجنوں ذیلی کمپنیوں کی مالک ہے جو تمام آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 'گوگل' کے اس نئے انتظامی ڈھانچے کا مقصد 'وال اسٹریٹ' اور سرمایہ کاروں کے تحفظات کا ازالہ کرنا بھی ہے جو کمپنی کے مالی معاملات اور فیصلہ سازی کے نظام میں شفافیت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

'گوگل' کے حصص کے مالک چھوٹے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ کمپنی کی توجہ اپنے بنیادی کاروبار – انٹرنیٹ سے متعلق مصنوعات کی تیاری – پر مرکوز نہیں رہی اور اس کے نت نئے تجربے اور نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کمپنی کے لیے مالی مسائل کھڑے کرسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG