رسائی کے لنکس

’گوگل گلاس‘ نامی یہ انوکھی عینک انسان کو بہت سے ایسے امور سر انجام دینے میں مدد دیتی ہے جو شاید ان کے جدید سمارٹ فونز بھی نہیں دے سکتے۔

منگل کے روز صبح کا آغاز امریکہ میں بہت سے لوگوں کے لیے خوشی کا پیام بن کر آیا کیونکہ منگل کے روز گوگل کی جانب سے ’گوگل گلاس‘ کی محدود پیمانے پر فروخت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

’گوگل گلاس‘ کا آئیڈیا پچھلے برس متعارف کرایا گیا تھا جب چند رضا کاروں کو یہ گلاس تجرباتی طور پر استعمال کرنے کے لیے دی گئی تھی۔

اس عینک کے فریم پر ایک بہت چھوٹی سی وڈیو سکرین لگی ہے جس سے ایک کیمرہ منسلک ہے جو آپ کے سمارٹ فون کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔

’گوگل گلاس‘ کو عینک کو دائیں طرف ہلکا سا دبانے پر آپ کی آنکھوں کے سامنے بہت سے مختلف آپشنز آجائیں گے جس میں انٹرنیٹ استعمال کرنا، وڈیو بنانا، میسج بھیجنا اور راستے کی نشاندہی جیسی آپشنز شامل ہیں۔

’گوگل گلاس‘ نامی یہ انوکھی عینک انسان کو بہت سے ایسے امور سر انجام دینے میں مدد دیتی ہے جو شاید ان کے جدید سمارٹ فونز بھی نہیں دے سکتے۔ مثال کے طور پر آپ اس عینک کی مدد سے ایسے لمحوں کو بھی قید کر سکتے ہیں جو بصورت ِ دیگر سمارٹ فون کا کیمرہ آن کرتے کرتے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس عینک کی مدد سے آپ نہ صرف بہت اعلیٰ کوالٹی کی تصویریں کھینچ سکتے ہیں بلکہ انہیں سیکنڈز میں انٹرنیٹ پر بھی اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔

تو انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور گوگل گلاس کو امریکہ بھر میں منگل کی صبح فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا۔ مگر گوگل کی جانب سے یہ بتانے پر گریز برتا جا رہا ہے کہ کل کتنے ’گوگل گلاس‘ کو مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا یا پھر یہ کہ ’گوگل گلاس‘ کی یہ فروخت کب تک جاری رہے گی؟
ویب سائیٹ ’مرکری نیوز‘ کے مطابق منگل کے روز تقریباً 10 ہزار ایسے افراد کو گوگل گلاس فروخت کیے گئے جنہیں پہلے سے ’گوگل گلاس‘ کی فروخت کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

گوگل کے مطابق رواں برس کے اختتام تک ’گوگل گلاس‘ کو مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا مگر فی الحال ٹیکنالوجی کے اس عجوبے تک چند خوش نصیب افراد کی ہی رسائی ہے۔

’گوگل گلاس‘ کی قیمت 1,500 ڈالر رکھی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG