رسائی کے لنکس

سندر پچائی2004ء سے گوگل میں کام کر رہے ہیں، گوگل کےچیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے سندر پچائی کی تقرری کمپنی کے ڈھانچے کی تنظیم نو کا حصہ ہے۔

گوگل نے پیر کو جب کمپنی کی تنظیم نو کا اعلان کیا تو گوگل کے آپریٹنگ ڈھانچے کی تبدیلی میڈیا پر ایک بڑی خبر ثابت ہوئی، وہیں میڈیا کی توجہ کا مرکز سندر پچائی بھی بن گئے،جنھوں نے انٹرنیٹ جائنٹ سرچ انجن گوگل کے سربراہ لیری پیج کی با اثر ترین پوزیشن حاصل کی ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق،گوگل کےچیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے سندر پچائی کی تقرری کمپنی کے ڈھانچے کی تنظیم نو کا حصہ ہے، جس کے تحت سرچ انجن گوگل اب گوگل کی مدر کمپنی 'ایلفابیٹ' کا ماتحت ادارہ ہو گا۔

گوگل کے اعلان کے مطابق، نئی سپر کمپنی ایلفابیٹ کے سربراہ گوگل کے ’سی ای او‘ لیری پیچ ہوں گے،جبکہ گوگل میں سربراہ کےخالی پوزیشن پر تینتالیس سالہ سندر پچائی کو نامزد کیا گیا ہے ۔

گوگل کے بنیادی کاروبار کے لیے نئے چیف ایگزیکٹیو سندر پچائی کا نام شاید بہت سے لوگوں کے لیے نیا ہو گا، لیکن گوگل کے کاروبار میں حالیہ برسوں میں انھوں نے تیزی سے اہم کردار ادا کیا ہے

سندر پچائی کی نگرانی میں تیار کی جانے والی گوگل کی اہم ترین مصنوعات میں سرچ ،گوگل نقشہ سازی اور یو ٹیوب شامل ہے۔

سندر پچائی 2004 سے گوگل میں کام کر رہے ہیں، اور اپنی شمولیت کے بعد سے گوگل کی اہم مصنوعات کی تیاری اور خدمات کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔

سندر پچائی گوگل کے سربراہ کی حیثیت سے گوگل کے بنیادی کاروبارکے لیے سربراہی کرنے کے علاوہ بدستور کمپنی کی مصنوعات مثلا سرچ انجن،گوگل نقشہ سازی، یوٹیوب اور اینڈرائڈ سسٹم کی ترقی میں معاونت بھی فراہم کرتے رہیں گے۔

انھوں نے گوگل کی مصنوعات کے سینیئر نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں ہیں۔

وہ گوگل کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے 2008 میں گوگل کا ویب براؤزر لانچ کیا تھا جبکہ ان کی نگرانی میں گوگل کی دیگر مصنوعات گوگل کروم اور موبائل فون کا آپریٹنگ سسٹم اینڈروئڈ تیار کیا گیا ہے۔

مزید برآں موجودہ خدمات کے علاوہ انھوں نےگوگل ڈیسک ٹاپ انجن ،ٹول بار، گوگل گیئر کی تیاری اور ترقی میں شامل رہے ہیں۔

سندر پچائی کی زندگی کی کہانی قابل ذکر ہے وہ بھارت کے شہر چنائی میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے اور ابتدائی تعلیم حاصل کی، وہ اپنے اسکول کی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اور ان کی قیادت میں ٹیم نے علاقائی سطح کے کرکٹ مقابلوں میں فتح حاصل کی۔

بلوم برگ میگزین میں ان کی پروفائل کے مطابق، سندر ایک متوسط طبقے کے شائستہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا خاندان دو کمروں کے ایک فلیٹ میں رہتا تھا جہاں ان کا الگ بیڈ روم نہیں تھا وہ اپنے بھائی کے ساتھ ڈرائنگ روم کے فرش پر سویا کرتے تھے۔

ان کے گھر والوں کے ’پاس ٹی وی‘ اور گاڑی نہیں تھی۔ ان کے والد برطانوی جنرل الیکٹریک کمپنی میں ملازمت کرتے تھےجنھوں نے بچپن سے اپنے بیٹے کے دماغ میں ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے کا خواب سما دیا تھا۔

انھوں نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کھڑاگ پور سے انجنیئرنگ میں پچلر کی ڈگری حاصل کی ہے، جس کے بعد اسکالر شپ پر اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے میڑیل آف سائنس اینڈ انجنیئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری لی جبکہ انھوں نے واٹرلو اسکول آف یونیورسٹی سےایم بی اے کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔

امریکی میڈیا ذرائع کے مطابق ،سندر پچائی کو ایک نرم گو شخصیت کا مالک بتایا جاتا ہے وہ ڈولپرز کے درمیان بہت مقبول ہیں، وہ گوگل کے سالانہ ڈولپرز ایونٹ کو چلاتے ہیں۔

گوگل کے سابق ’سی ای او‘ لیری پیج نے بلاگ پوسٹ میں تحریری طور پر اصلاحات کی وضاحت میں لکھا کہ سندر پچائی نے ’’جب سے انٹرنیٹ کاروبار کے لیے مصنوعات اور انجنیئرنگ کی ذمہ داری سنبھالی ہے وہ گوگل میں نمایاں نظر آ رہے ہیں، میں اور گوگل کے شریک بانی سرگی برن جو نئی کمپنی ایلفابیٹ کے صدر ہیں سندر کی ترقی اور کمپنی کے ساتھ ان کی وابستگی سے بےحد متاثر ہوئے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’میں نے سندر پچائی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انھیں سیکھنے کا ہر موقع فراہم کریں گے، میں سندر سے ملتا رہتا ہوں اور کمپنی کی ہر اس طریقے سے مدد کرتا ہوں جو میں کر سکتا ہوں اور ظاہر ہے کہ میں یہ سلسلہ جاری رکھوں گا۔‘‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’’میں خود کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ میرے پاس ایک ایسا باصلاحیت شخص موجود ہے، جو گوگل کو چلا رہا ہے اور وہ توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘

گوگل کے سابق چیف ایگزیکٹیو اور الیفابیٹ کمپنی کے موجودہ ایگزیکٹیو چیئرمین ایرک شمٹ نے سندر پچائی کی تقرری پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’’سندر کے وژن اور تخلیقی صلاحیت کے حوالے سے میں بہت زیادہ پرجوش ہوں وہ ایک عظیم سی ای او ثابت ہوں گے۔‘‘

XS
SM
MD
LG