رسائی کے لنکس

مغرب روس کو تنہا کرنے کی کوششیں ترک کردے، گورباچوف


فائل

فائل

گورباچوف نے اپنے مضمون میں موقف اختیار کیا ہے کہ روس عالمی سیاست کا ایک اہم کردار رہا ہے اور وہ کبھی بھی "دنیا میں دوسرے درجے کا کردار" قبول نہیں کرے گا۔

سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچوف نے مغربی ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کو عالمی برادری میں تنہا کرنے اور روسی شخصیات کو پابندیوں کو نشانہ بنانے کا رویہ ترک کردیں۔

جمعرات کو روسی حکومت کے اخبار 'روسیسکا گزیاتا' میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں سابق سوویت رہنما نے لکھا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں روس کا کردار "بہت اہم اور مثبت" ہے جسے متاثر کرنے کی کوششیں نامناسب ہیں۔

پچاسی سالہ گورباچوف نے اپنے مضمون میں موقف اختیار کیا ہے کہ روس عالمی سیاست کا ایک اہم کردار رہا ہے اور وہ کبھی بھی "دنیا میں دوسرے درجے کا کردار" قبول نہیں کرے گا۔

اپنے مضمون میں گورباچوف نے مغربی ملکوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روس کو عالمی سیاست میں تنہا کرنے کی کوششیں ترک کردیں کیوں کہ، ان کے بقول، ماضی میں بھی ان کوششوں کا کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔

سابق صدر نےکہا کہ یہی معاملہ مغربی ملکوں کی جانب سے روسی شہریوں پر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیاں کا بھی ہے جن کا کسی کو فائدہ نہیں ہورہا ہے۔ ان کےبقول مغرب کو پابندیاں لگانے کی یہ مشق فوراً ترک کردینی چاہیےورنہ روس اور مغرب کے درمیان اعتماد کی بحالی کا کوئی امکان نہیں رہے گا۔

اپنے مضمون میں سوویت یونین کے سابق صدر نے شام کے تنازع کے حل کے لیے امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے تعاون کو ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک اس طرح کے تعاون کے ذریعے اپنی کشیدگی میں کمی لاکر مستقبل میں اشتراکِ عمل کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔

مغربی ممالک میں گورباچوف کو ایک مثالی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے جن کی متعارف کرائی گئی ڈرامائی اصلاحات کے نتیجے میں روس میں کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔ لیکن اندرونِ ملک کئی حلقے انہیں سوویت یونین کی سیاسی اور معاشی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔

میخائل گوربا چوف نے اپنے دورِ اقتدار میں افغانستان پر روس کی دس سالہ فوج کشی کا خاتمہ کرتے ہوئے 1989ء میں افغانستان سے سوویت افواج کو واپس بلالیا تھا۔ سوویت افوج کی افغانستان میں شکست اور کابل سے انخلا کے نتیجے میں متحدہ روس کا شیرازہ بکھر گیا تھا اور نتیجتاً امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان عشروں سے جاری سرد جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکا تھا۔

XS
SM
MD
LG