رسائی کے لنکس

لکھوی کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ عدالت عظمٰی میں چیلنج


سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان

ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکیل کا موقف ہے کہ اُن کے موکل 2009ء سے حراست میں ہیں لیکن اُن کے خلاف ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے ہیں۔

پاکستان کی حکومت نے بھارتی شہر ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چینلج کر دیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے 18 دسمبر کو ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت پر رہائی کی درخواست منظور کی تھی لیکن اس کے فوراً بعد حکومت نے خدشہ نقص عامہ کے قانون کے تحت لکھوی کو تین ماہ کے لیے نظر بند کر دیا گیا۔

ذکی الرحمٰن کی نظر بندی کے انتظامی فیصلے کو بھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کر دیا، لیکن پولیس نے اغواء کے ایک اور مقدمے میں ذکی الرحمٰن لکھوی کو گرفتار کر لیا۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کے بعد بھارت نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے رواں ہفتے کے اوائل میں نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبد الباسط کو بھی وزارت خارجہ طلب کیا تھا۔

وزارت داخلہ کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو نظر بندی ختم کرنے کا اختیار نہیں اور عدالت عالیہ نے حکومت کا موقف سنے بغیر فیصلہ سنایا۔

بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں 2008ء میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں پاکستان میں جن سات افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جا رہا ہے اُن میں ذکی الرحمٰن لکھوی بھی شامل ہیں۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکیل کا موقف ہے کہ اُن کے موکل 2009ء سے حراست میں ہیں لیکن اُن کے خلاف ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے ہیں۔

دریں اثناء رواں ہفتے گرفتاری کے بعد پولیس نے اسلام آباد کی ایک ماتحت عدالت سے اغوا کے ایک مقدمے میں ذکی الرحمن لکھوی کا دو روزہ ریمانڈ حاصل کیا تھا جس کی معیاد پوری ہونے پر جمعرات کو دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے پر ملزم کو 14 روزہ ریمانڈر پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

بھارت ممبئی حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کرتا ہے۔ 26 نومبر 2008ء کو ہونے والے حملوں میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور نئی دہلی نے اسلام آباد سے جامع امن مذاکرات بھی معطل کر دیئے تھے جو اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔

XS
SM
MD
LG