رسائی کے لنکس

’حکومت پولیس میں خواجہ سراؤں کے حقوق پر آگہی پیدا کرے‘

  • عشرت سلیم

علیشا کے قتل پر خواجہ سراؤں کا مظاہرہ۔

علیشا کے قتل پر خواجہ سراؤں کا مظاہرہ۔

اس کے قتل پر دیگر خواجہ سراؤں نے کہا ہے کہ اس سے پہلے بھی خیبر پختونخوا میں اس قسم کے کئی واقعات ہو چکے ہیں مگر پولیس نے انہیں کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کیا۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے کہا ہے کہ حکومت کو پولیس اور دیگر اداروں میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے بارے میں آگہی پیدا کرنی چاہیئے۔

حال ہی میں پشاور میں ایک خواجہ سرا علیشا پر فائرنگ اور لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ان سے کیے جانے والے سلوک پر ملک کے مختلف حلقوں میں طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کے مطابق علیشا کو گزشتہ ہفتے کی رات ایک جرائم پیشہ گروہ نے متعدد گولیاں مار کر زخمی کر دیا تھا۔ اسپتال لے جانے پر اسے اس لیے فوری طبی امداد نہ دی جا سکی کیونکہ اسپتال انتظامیہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ اسے عورتوں کی وارڈ میں رکھا جائے یا مردوں گی۔

علیشا اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بدھ کو چل بسی۔

زہرہ یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ تھا۔

’’اسپتال میں جب کوئی ایمرجنسی میں جاتا ہے تو سب سے بڑی ترجیح ہوتی ہے جان بچانا۔ اسپتال کا اپنا رویہ جس چیز کی عکاسی کرتا ہے، افسوس یہ ہے کہ معاشرے کا بھی یہی رویہ ہے خواجہ سراؤں کی طرف۔ اس قسم کی عدم برداشت سے خواجہ سراؤں کی حیثیت ہر طرح سے متاثر ہوتی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ صرف قانون سازی سے صورتحال نہیں بدلے گی کیونکہ یہ معاشرے کے رویوں کا بھی مسئلہ ہے۔

تاہم زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ حکومت دوران تربیت پولیس اور انتظامی اداروں کے اہلکاروں میں یہ آگہی پیدا کرنے کے اقدامات سکتی ہے کہ خواجہ سرا بھی پاکستان کے شہری ہیں اور وہی حقوق رکھتے ہیں جن حقوق کے دیگر شہری حقدار ہیں۔

قتل ہونے والی علیشا خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ٹرانس جینڈر الائنس کی رابطہ کار تھی۔

اس کے قتل پر دیگر خواجہ سراؤں نے کہا ہے کہ اس سے پہلے بھی خیبر پختونخوا میں اس قسم کے کئی واقعات ہو چکے ہیں مگر پولیس کی طرف سے انہیں کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔

ان کا مؤقف ہے کہ جرائم پیشہ عناصر ان سے بھتہ وصول کرتے ہیں اور انہیں زبردستی جنسی افعال پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اس واقعے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائیٹوں پر اسپتال میں خواجہ سرا کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر بہت تنقید کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG