رسائی کے لنکس

اسلام آباد: بڑی ’کچی بستی‘ کو مسمار کرنے کا کام شروع


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یاد رہے کہ دو روز قبل بھی ’سی ڈی اے‘ نے بستی کو مسمار کرنے کی کوشش کی تھی مگر مکینوں کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر اسے کامیاب نہیں ہونے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ’کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ یعنی ’سی ڈی اے‘ نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی الیون میں ایک کچی آبادی میں گھروں کو مسمار کرنے کا کام جمعرات کو شروع کر دیا۔ اس موقع پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری یہاں تعینات کی گئی تھی۔

’سی ڈی اے‘ کے مطابق 2005 میں قائم ہونے والی اس بستی میں موجود 800 مکانوں کو بلڈوزروں اور کھدائی کی مشینوں کی مدد سے مسمار کرنے کے لیے کارروائی کی گئی۔

آپریشن شروع کرنے سے قبل بستی کو جانے والی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق بہت سے رہائشیوں نے اپنے مکانوں سے نکلنے سے انکار کر دیا جبکہ دیگر نے پولیس اور حکومت کے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل بھی ’سی ڈی اے‘ نے بستی کو مسمار کرنے کی کوشش کی تھی مگر مکینوں کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر اسے کامیاب نہیں ہونے دیا۔

فروری 2014ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی تمام غیر قانونی بستیوں کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت زیر غور آیا جب اسلام آباد کی ایک کچی بستی کے رہائشی نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی کہ نادرا کو ہدایت کی جائے کہ وہ اسے شناختی کارڈ جاری کرے۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے اس کچی بستی میں مقیم ہے مگر کوائف کا اندارج کرنے والا قومی ادارہ ’نادرا‘ اُسے شناختی کارڈ جاری کرنے سے انکاری ہے۔

اس پر عدالت نے ’سی ڈی اے‘ سے کچی بستوں کا ریکارڈ طلب کیا اور تفصیلات جاننے کے بعد اتھارٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلام آباد سے تمام کچی بستوں کو ختم کرے۔

چند ہفتے قبل ’سی ڈی اے‘ نے اعلان کیا تھا کہ وہ وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز میں موجود 42 غیر قانونی بستیوں کی مسماری کا کام چار مراحل میں عیدالفطر کے بعد شروع کرے گی اور اس مقصد کے لیے کچی آبادیوں کے مکینوں کو نوٹس بھی جاری کر دیے گئے تھے مگر مکینوں کی اکثریت اب بھی وہاں آباد ہے۔

XS
SM
MD
LG