رسائی کے لنکس

کراچی کی دیواریں خواتین کے حق میں بول اٹھیں


حال ہی میں کراچی کے طلبہ و طالبات کے ایک گروپ نے خواتین کے حقوق کے لیے ایک منفرد انداز اپنایا جس میں انھوں نے شہر بھر کی اہم شاہراہوں کی دیواروں پر خواتین کے حق میں پیغامات لکھ ڈالے۔

​پاکستان کا معاشی مرکز کراچی جس کی دیواروں پر سیاسی نعرے، مذہبی اور اشتعال انگیز مواد لکھنا اور مختلف اشتہاروں کی تشہیر عام بات ہے، اب انہی دیواروں پر لکھے گئے ہیں ایسے پیغامات جو بنے ہیں خواتین کی آواز۔ ۔ ۔ ۔

سیاسی مذہبی اور فرقہ وارانہ نعروں کی تحاریر کے جھرمٹ میں اب کراچی کی دیواریں خواتین کے حق میں بھی بول اٹھی ہیں۔

حال ہی میں کراچی کے طلبہ و طالبات کے ایک گروپ نے خواتین کے حقوق کے لیے ایک منفرد انداز اپنایا جس میں انھوں نے شہر بھر کی اہم شاہراہوں کی دیواروں پر خواتین کے حق میں پیغامات لکھ ڈالے۔

یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی نوجوان گروپ نے خواتین کے حقوق میں کوئی مہم چلائی ہو اور اتنے عام مگر حساس نوعیت کے مسائل کی جانب توجہ دلائی ہو۔

کراچی کی ایک طلبہ تنظیم 'نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن' کے طلبہ گروپ نے شہر بھر کی دیواروں پر خواتین کے حق میں مختلف نعرے لکھ کر اور تصاویر بنا کر ان دیواروں کو عورتوں کے لیے بولنے پر مجبور کردیا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ مہم کا مقصد عوام کو یہ بتانا ہے کہ خواتین کو ان کا حق دیا جائے۔

مہم کے دوران شہر کی دیواروں پر گھریلو تشدد حیوانیت ہے، پدر شاہی نظام نامنظور، گھریلو تشدد نامنظور، قائد ہے عورت، ہم لیں گے آزادی، ہے حق ہمارا آزادی، جیسی تحاریر لکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دیواروں پر خواتین کے اسکیچز بھی بنائے گئے ہیں جن میں مرد کو عورت پر ہاتھ اٹھاتے دکھایا گیا ہے جس کے نیچے مردوں سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا ہے کہ "کہیں یہ آپ تو نہیں۔"

طلبہ تنظیم نے خواتین کو بنیادی اور برابر کے حقوق دلوانے، ان پر ہونے والے گھریلو تشدد اور انہیں درپیش دیگر مسائل مختلف اسکیچز اور نعروں اور تحاریر کے ذریعے عام آدمی تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

نوجوانوں کے اس گروپ میں شامل لیلی رضا کے مطابق "اکثر سڑکوں پر جو وال چاکنگ ہوتی ہے وہ نفرت انگیز تحریریں ہوتی ہیں۔ کبھی کوئی مثبت پیغام نہیں جارہا ہوتا تو اسی لیے ہم نے ان مقامات کو بہتر پیغامات کے لئے چنا ہے۔ ہم نے سوچا کیوں نہ دیواروں کو حقوق نسواں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان تحریروں کی روشنی میں اگر خواتین بھی دیکھیں کہ وہ اس قسم کا تشدد برداشت کررہی ہیں تو اس کے خلاف آواز اٹھائیں،اور اگر کوئی مرد یہ پیغامات پڑھے تو اس پر بھی اس کا اچھا اثر ہو۔"

ترجمان نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن مزمل افضل نے 'وی او اے' سے گفتگو میں کہا کہ "ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ناانصافی کی روش سی چل پڑی ہے، کراچی جیسے شہر میں بھی خواتین کو اپنے حقوق حاصل نہیں۔ خواتین کے لیے بنائے گئے قوانین پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا، ہر عورت کسی نہ کسی نا انصافی اور ہراساں ہونے کا سامنا کررہی ہے، ہم نکلے ہیں کہ ان چیزوں کو بدلا جاسکے۔"

نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور گریفٹی آرٹ کے ذریعے عوام کو یہ بتایا ہے کہ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کو ختم کیا جائے۔"

کراچی کے نوجوانوں نے شہر کی اہم شاہراہوں آئی آئی چندریگر روڈ، صدر ٹاون، ایم اے جناح روڈ، ایم آر کیانی روڈ، یونورسٹی روڈ، گلشن اقبال اور دیگر مقامات پر اپنی مہم چلائی ہے۔

XS
SM
MD
LG