رسائی کے لنکس

مزار کا کوئی دروازہ نہیں۔ چوپائے قبر پر ’لوٹنے‘ چلے آتے ہیں۔۔ سائے دار درختوں کا عنقا ہے۔۔ دیکھ بھال کرنے والا اور پتہ بتانے والا تک کوئی نہیں۔۔۔

’شہنشاہ غزل‘۔۔ مہدی حسن نے اپنے ورثے میں لاکھوں پرستار چھوڑے تھے۔ لیکن، حوادث زمانہ دیکھئے آج اُن کا مزار پرستاروں کے دیدار کو ترستا ہے۔

محمد شاہ قبرستان نارتھ کراچی کے گورکن، محمد اکمل کا کہنا ہے کبھی کبھار ہی کوئی پرستار یہاں آتا دکھائی دیتا ہے، ورنہ ’چند قریبی عزیزوں کو چھوڑ کر‘ سب ہی اپنی دنیا میں مگن ہیں۔

منگل کی صبح جب ’وی او اے‘ کا نمائندہ مزار پر پہنچا تو ایک بزرگ وہاں کچھ قرآنی آیات پڑھتے نظر آئے۔ پوچھنے پر بولے، ’میں پہلے بھی کئی بار یہاں آچکا ہوں ۔۔اور جب بھی آتا ہوں مزار کو پہلے سے زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہوں۔ ابتدا میں ایک بابا قبر کی دیکھ بھال کرتے اور پانی دیتے نظر آتے تھے، مگر اب وہ بھی جانے کہاں گئے۔‘

قبر کا واحد گنبد ویران احاطے میں تنہا کھڑا بارش، دھوپ اور موسم کی سختیوں سے لڑ رہا ہے۔ احاطے کی دیواروں پر کئی کئی فٹ اوپر تک سیم و تھور کی ’دیمک ‘ چمٹ گئی ہے۔ صبح کے وقت احاطے میں بچے بکریاں ٹہلاتے اور شام کو بے روک ٹوک کرکٹ کھیلتے ہیں۔

مزار کا کوئی دروازہ نہیں، چوپائے قبر پر ’لوٹنے‘ چلے آتے ہیں۔۔سائے دار درختوں کا عنقا ہے۔۔ دیکھ بھال کرنے والا اور پتہ بتانے والا تک کوئی نہیں۔۔۔کسی مہربان نے مزار کی دیوار پر کالے رنگ سے جلی حروف میں ’شہنشاہ غزل مہدی حسن کا مزار‘ لکھ دیا تھا، جو قریب سے گزرنے والوں کی رہنمائی کر دیتا ہے ۔۔ورنہ بورڈ تک آویزاں نہیں۔

قبر کے سرہانے نصب کتبے پر لکھا ہے: ’اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں‘۔۔

بے شک مہدی حسن ایسے ہی فنکار تھے جو اب دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملیں گے۔ لیکن اس شخصیت کی بے قدری کا عالم بھی بہت برا ہے۔

آس پاس بہت سی قبروں کو جنہیں محدود حد تک ہی لوگ جانتے ہیں ان کے مزار ’آستانوں‘ میں بدل گئے ہیں۔ وہاں روشنی اور سیکورٹی کا بھی انتظام ہے اور مہینے چھ مہینے بعد یہاں ’میلہ‘ بھی لگا کرتا ہے۔ لیکن، مہدی حسن جنہیں دنیا کے ہر کونے میں پہچانا جاتا تھا ان کا مزار سورج ڈھلتے ہی اندھیروں کا مسکن بن جاتا ہے۔ وہاں میلے لگنا تو دور کی بات ہے۔۔۔غزل بھی خاموش کھڑی ہے۔۔سُر کہیں کھو گئے ہیں اور بولتے ہیں تو صرف سناٹے۔۔۔

ہجری یا اسلامی کلینڈر کے مطابق، آج سے ٹھیک آٹھ دن بعد اور’انگریزی‘ یا عیسوی کلینڈر کے مطابق اگلے مہینے۔۔مہدی حسن کو بچھڑے 2 سال مکمل ہوجائیں گے۔ پچھلے سال یعنی 13جون 2013ء کو پہلی برسی کے موقع پر اس وقت کے ارباب اختیار نے اعلان کیا تھا کہ مزار کو باقاعدہ مقبرے کی شکل دی جائے گی۔ تعمیراتی کام بہت تیزی سے مکمل ہوگا۔ لیکن، سرکاری وعدہ، سرکاری فائلوں میں ہی دب کر دم توڑ گیا۔ عملاً کچھ بھی نہ ہو سکا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ مزار کے ستون بے رنگ اور کمزور ہوگئے ہیں اور لگتا ہے اگلی کچھ بارشوں میں جواب دے جائیں گے۔ احاطے کی دیواروں کے بلاکس تعمیر سے اب تک پلاسٹر کے لئے ترس رہے ہیں اور رفتہ رفتہ انہیں ’گھن‘ لگ گیا ہے۔۔۔مٹی بُھر بُھری ہوگئی اور جھڑنے لگی ہے۔

ہم شاید اب بھی مہدی حسن کی بے قدری کر رہے ہیں، ورنہ ’بلبل ہند‘ کا لقب رکھنے والی لتا منگیشکر کہا کرتی تھیں کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔۔۔اور فلمی شاعری کی آبرو کہے جانے والے گلزار سرحد کے اس پار بیٹھ کر بھی خیالوں ہی خیالوں میں مہدی حسن سے ملنے اور ان کی زخمی آواز پر اظہار ہمدردی کرنے یہاں تک چلے آتے تھے۔وہ ایک نظم کی صورت کہہ چکے ہیں: ’آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا، سپنوں کی سرحد ہوتی نہیں۔۔۔بندآنکھوں سے روز میں سرحد پار چلا جاتا ہوں، ملنے مہدی حسن سے ۔۔۔سنتا ہوں ان کی آواز کو چوٹ لگی ہے ۔۔اور غزل خاموش ہے سامنے بیٹھی ہوئی۔۔۔‘

مہدی حسن کی تدفین کے وقت ہزاروں سوگوار اور نامور شخصیات موجود تھیں۔۔۔ لاکھوں پرستاروں، عقیدت مندوں کی آہوں اور سسکیوں کے درمیان انہیں سپرد خاک کیا گیا۔۔۔لیکن اب لگتا ہے انگنت پرستاروں کا اس مزار پر لگنے والا یہ شاید پہلا اور آخری’میلہ‘ تھا۔۔۔دنیا میں آج بھی ان کے لاکھوں پرستار ہیں مگر شاید ان کے پاس یہاں آنے کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔شاید اسی کو ’حوادث زمانہ‘ کہتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG