رسائی کے لنکس

یونان: نئے ٹیکس اور کٹوتیوں پر مبنی نئے قانون کی منظوری، ملک گیر ہڑتال


یونان: نئے ٹیکس اور کٹوتیوں پر مبنی نئے قانون کی منظوری، ملک گیر ہڑتال

یونان: نئے ٹیکس اور کٹوتیوں پر مبنی نئے قانون کی منظوری، ملک گیر ہڑتال

یونان کی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے پہلا قدم اٹھاتے ہوئےاخراجات میں کفائت سے متعلق نئے قوانین کی منظوری دی ہے جن کامقصد ملک کو قرضوں کے بحران سے نکالناہے۔

سوشیلسٹ وزیر اعظم جارج پاپاندریو نے بدھ کے روز پارلیمنٹ سے40 ارب ڈالر کے نئے مالیاتی اقدامات کی منظوری حاصل کی جن میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ، اخراجات میں کٹوتیاں اور سرکاری اثاثوں کی فروخت شامل ہے۔

یونان کے قانون سازوں نے بدھ کے روز ایک ایسے وقت میں نئی قانون سازی کے حق میں ووٹ دیا جب وسطی ایتھنز میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر سڑکوں پر دوسرے روز بھی نئے قانون کے مخالف مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں جاری رہیں۔

نئے اقدامات کی منظوری کے نتیجے میں اب یونان آئی ایم ایف اور یورپین یونین سے پچھلے سال کے 156 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام سے 17 ارب ڈالر کی قسط حاصل کرسکے گا۔

نئے اقدامات کی منظوری حاصل نہ ہونے کی صورت میں یکم جولائی کے بعد یونان کو دیوالیہ قرار دیا جاسکتا تھا، جس سے یورپی اور عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

نئے مسودہ قانون پر ووٹنگ کے وقت یونانی وزیر اعظم نے قانون سازوں سے اپیل کی کہ وہ ان کی حمایت کریں۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے یہ استدعا بھی کی کہ وہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ہر قدم اٹھائیں۔

قانون ساز جمعرات کو اس نئے منصوبے کی تفصیلات کے تعین پر ووٹ دیں گے۔

بدھ کے روز پولیس اور مظاہرین میں اس وقت جھڑپیں ہوئیں جب وہ پارلیمنٹ کی عمارت کو اپنے گھیرے میں لینے کی کوشش کررہےتھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسوگیس کا استعمال کیا۔

بدھ کا دن یونان میں مزوروں کی 48 گھنٹے کی ہڑتال کا دوسرا روزتھا اور کفایت شعاری پر مشتمل اصلاحات کے دوسرے مرحلے کی منظوری کے خلاف ہڑتال کے باعث پورے ملک کا نظام بند پڑاہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG