رسائی کے لنکس

پولیس اور مظاہرین کے درمیان ایتھنز میں جھڑپیں


پولیس اور مظاہرین کے درمیان ایتھنز میں جھڑپیں

پولیس اور مظاہرین کے درمیان ایتھنز میں جھڑپیں

یونان میں حکومت کی جانب سے کیے گئے بچت اقدامات کے خلاف مزدور یونینوں کی اپیل پر دو روزہ ہڑتال جاری ہے جس کے دوران دارالحکومت ایتھنز میں احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں۔

بدھ کو ہونے والے جھڑپوں کے دوران ملکی پارلیمان کے عین سامنے 'سنتیگما اسکوائر' میں جمع ہونے والے مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور 'آگ لگانے والےبم' پھینکے جن کے جواب میں پولیس کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل برسائے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدمات پر احتجاج کے لیے لگ بھگ 70 ہزار مظاہرین پارلیمان کے سامنے جمع ہوئے تھے جن کےہاتھوں میں موجود بینرز پر حکومت کی برطرفی کے نعرے درج تھے۔

مذکورہ احتجاج ایک ایسے موقع پر کیا جارہا ہے جب یونانی پارلیمان کے اراکین حکومت کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین بچت منصوبے کی منظوری دینے جارہے ہیں۔

ٹیکسوں میں اضافے اور سرکاری ملازمتوں میں کمی جیسے اقدامات پر مشتمل منصوبے پر پارلیمان میں بدھ کی شام اور جمعرات کو ووٹنگ کی جائے گی۔

منصوبے کے خلاف سرکاری ملازمین کی ہڑتال کے باعث دارالحکومت ایتھنز کی سڑکیں کچرے سے اٹی پڑی ہیں جبکہ ملک کے معروف تاریخی و تفریحی مقامات بھی سیاحوں کے لیے بند پڑے ہیں۔ ہڑتال کے باعث حکومت کی بیشتر سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں۔

ڈاکٹروں اور اساتذہ سمیت بیشتر شعبہ جات سے منسلک یونانی شہری 48 گھنٹوں کی اس ہڑتال میں شریک ہیں جس کی نان بائیوں، ٹیکسی اور گیس اسٹیشن مالکان نے بھی حمایت کی ہے۔ ہڑتال کے سلسلے میں یونان کے دیگر شہروں بشمول تھیسالونیکی، پیٹراس اور ہیراکلیون میں بھی بدھ کو ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

یونان کو قرضہ دینے والے ممالک اور عالمی اداروں نے شرط عائد کی ہے کہ یونان کو معاشی بحران سے بچانے کے لیے گزشتہ برس منظور کیے گئے 159 ارب ڈالرز کے بین الاقوامی قرضہ کی اگلی قسط کے حصول کے لیے ایتھنز حکومت کو مجوزہ بچت منصوبہ منظور کرنا ہوگا۔

عالمی قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث یونان کو آئندہ ماہ نادہندہ قرار پانے کے خطرے کا سامنا ہے جس سے بچنے کے لیے اسے اس رقم کی اشد ضرورت ہے۔

یونانی وزیرِ خزانہ ایونیجلوس وینی زیلوس نے پارلیمان سے خطاب میں کہا ہے کہ قانون سازوں کو قوم پر بچت اقدامات کی "اشد ضرورت" واضح کرنا ہوگی تاکہ ان کے بقول ملک کو اس سے کہیں بدتر معاشی صورتِ حال کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔

تاہم یونان کی سوشلسٹ حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ سرکاری پالیسیاں ملک طور پر ناکام رہی ہیں۔

یونان کے وزیرِاعظم جارج پاپانڈریو نے اراکینِ پارلیمان پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کا تجویز کردہ بچت منصوبہ منظور کرلیں۔ منصوبے پر پہلی رائے شماری بدھ کی شب ہوگی۔

XS
SM
MD
LG