رسائی کے لنکس

یونان کی قدامت پسند جماعت کے راہنما انتونس سمارا س نے ملک کے نئے وزیر اعظم کے طورپر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ ایک نئی اتحادی حکومت کے سربراہ ہیں جو مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے دیے جانے والے بین الاقوامی امدادی پیکیج کی شرائط پر دوبارہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

یونان کی تین سیاسی جماعتیں، مسٹر سمارا س کی نیو ڈیموکریسی، ڈیموکریٹک لیفٹ اور سوشلسٹ پاسوک کے درمیان ڈھائی دن کے مذاکرات کے بعد بدھ کے صبح ایک تحادی حکومت قائم کرنے کا معاہدے طے پاگیاتھا۔

معاہدے کے بعد مسٹر سمارا س نے حلف برداری کی تقریب سے قبل یونان کے صدر کارلوس پاپولیس سے ملاقات کی۔

پاسوک پارٹی کے راہنما ایوان گلوس ونیزلوس نے نامہ نگاروں سے کہا کہ نئی حکومت سے متعلق تفصیلات جلد ہی جاری کردی جائیں گی۔

نیوڈیموکریسی پارٹی نے اتوار کے پارلیمانی انتخابات میں 300 رکنی ایوان میں 129 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، لیکن وہ واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

حکومت سازی کے لیے اسے پاسوک اور ڈیموکریٹک لیفٹ سے مذاکرات کرنے پڑے۔

نئی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں یونان کی مشکلات میں گھری معیشت کی بحالی کے لیے بین الاقوامی امدادی پیکیج کی حمایت کرتی ہیں لیکن وہ اس کی شرائط کے از سرنو تعین کے لیے یورپی یونین اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات کرنا چاہتی ہیں۔

انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت سائریزا پارٹی بیل آؤٹ پروگرام کی مخالف ہے اور اس نے اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ پارٹی کے راہنماؤں کا کہناہے کہ اس وقت ملک کو ایک مضبوط حزب اختلاف کی ضرورت ہے اور یہ کہ وقت ثابت کرے گا کہ بیل آؤٹ پروگرام اور اس سے منسلک بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کی شرائط ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG