رسائی کے لنکس

یونان کے ٹیکنوکریٹ وزیرِاعظم لوکاس پاپا ڈیموس بدھ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں تاکہ قرضوں کے بحران کا شکار ملک میں انتخابات کے ذریعے نئی حکومت قائم کی جاسکے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ نئے انتخابات کے لیے 6 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے جس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں اندازہ لگانا تاحال ممکن نہیں ہے۔ حالیہ مالی بحران کے دوران میں یونان کے عوام ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، سوشلسٹس اور کنزرویٹوز' پر عدم اعتماد ظاہر کرچکے ہیں لہذا امکان ہے کہ دونوں جماعتیں ہی حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل نہیں کر پائیں گی۔

یونان کو نادہندہ ہونے سے بچانے کے لیے ملک کی موجودہ مخلوط حکومت نے گزشتہ برس عالمی برادری کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ملکی بجٹ میں کٹوتیاں اور محصولات میں اضافہ کردیا تھا جس کے بعد یورپی یونین اور بین الاقوامی معاشی اداروں کی جانب سے یونان کے لیے دو برس کے عرصے میں دوسرا بیل آئوٹ پیکج منظور کرلیا گیا تھا۔

حکومت کی جانب سے بچت اقدامات کے نتیجے میں ہزاروں یونانیوں کو اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں جب کہ تنخواہوں اور ریٹائر افراد کی پینشنوں میں کٹوتیوں کے باعث ملک میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔

گزشتہ برس کے اختتام پر یونان کے مالی بحران کے شدت اختیار کرنے کے بعد یورپ کے مرکزی بینک کے سابق عہدیدار اورماہرِ معاشیات پاپاڈیموس کو ملک کا نیا نگراں وزیرِاعظم مقرر کیا گیا تھا۔

پاپاڈیموس کی تقرری کا مقصد ملکی قرضوں میں کمی کے لیے ہونے والے مذاکرات کی نگرانی، عالمی برادری کو بیل آئوٹ پہ قائل کرنا اور سماجی بھلائی کے منصوبوں کے لیے مختص بجٹ میں کٹوتیاں کرنا تھا۔

ان تمام اہداف کے حصول کے بعد اب پاپاڈیموس بدھ کو اپنا استعفیٰ صدر کارولوس پاپولیاس کو پیش کر رہے ہیں جس کےبعد صدر پارلیمان کو تحلیل کرتے ہوئے آئندہ ماہ نئے انتخابات کرانے کا اعلان کریں گے۔

اس سے قبل عام انتخابات 2013ء میں ہونا تھا لیکن ملک کے معاشی بحران کے باعث قبل از وقت انتخابات کرائے جارہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG