رسائی کے لنکس

یونانی پارلیمان جمعہ کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے اجلاس منعقد کر رہا ہے کہ ان اصلاحات کی توثیق کرنی چاہیئے یا نہیں۔ اتوار کو 28 اراکین پر مشتمل یورپی یونین یونان کی صورتحال پر ایک ہنگامی سربراہ اجلاس بھی منعقد کر رہی ہے۔

یونان نے یورپی وزرائے خزانہ کو اقتصادی اصلاحات کا ایک نیا منصوبہ پیش کر دیا ہے، جو یہ فیصلہ کریں گے کہ یونان کی حکومت کو ایک اور اشد ضروری بیل آؤٹ قرض دینا چاہیئے کہ نہیں۔

ایتھنز کی طرف سے دیے گئے نئے منصوبے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں, مگر اطلاعات کے مطابق اس میں یورپی یونین کی جانب سے سیلز ٹیکسوں میں اضافے اور اخراجات میں کمی کی تجاویز شامل ہیں۔

یونانی پارلیمان جمعہ کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے اجلاس منعقد کررہا ہے کہ ان اصلاحات کی توثیق کرنی چاہیئے یا نہیں۔ اتوار کو 28 اراکین پر مشتمل یورپی یونین یونان کی صورتحال پر ایک ہنگامی سربراہ اجلاس بھی منعقد کر رہی ہے۔

کچھ یورپی رہنماؤں کا خیال ہے کہ یونان کے پاس ان کے مطالبات پورے کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔ یونان کی جانب سے کفایت شعاری کے مزید اقدامات کرنے سے انکار سے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔

مگر یونانیوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اخراجات اور پینشنوں میں کٹوتیوں سے متاثر ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہوئی ہیں اور معیار زندگی کم ہوا ہے۔ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ سے قرضوں کی تشکیل نو کا مطالبہ کیا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران میں دو بیل آؤٹ قرض حاصل کرنے کے بعد یونان قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا ہے۔ اب اس کی معیشت تیزی سے زوال کا شکار ہے اور اس کی ایک چوتھائی افرادی قوت بے روزگار ہے۔

جرمن وزیر خزانہ ولف گینگ شاؤبل جو یونان کو مزید مہلت دینے کے سخت خلاف رہے ہیں، جمعرات کو اس وقت کچھ نرم نظر آئے جب انہوں نے کہا کہ یونان کی معیشت کو اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے یونان کو 265 ارب ڈالر بیل آؤٹ قرضوں کی ادائیگیوں کی تشکیل نو کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

مگر انہوں نے یہ بھی کہا کہ قرضوں میں یکمشت کمی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے یورپی یونین کا نظام متاثر ہو گا۔

یونان اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے میں ناکامی سے یونان یوروزون سے نکل سکتا ہے۔ یوروزون کے 19 یورپی ممالک یورو کو ایک مشترکہ کرنسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

گزشتہ اتوار کو یونان کے عوام نے ریفرنڈم میں کفایت شعاری کے مزید اقدامات کو مسترد کر دیا تھا۔ یونان کی معاشی مشکلات کا آغاز 2009ء میں اس وقت ہوا جب یہ انکشاف ہوا کہ سابق کنزروٹیو حکومت نے ملک کے قرضوں کی رقم اصل سے بہت کم بتائی تھی۔ یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے جب عالمی کساد بازاری میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔

XS
SM
MD
LG