رسائی کے لنکس

ریفرنڈم میں ’نہ‘ کے بعد یونانی وزیر خزانہ مستعفی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

چند دن قبل ووروفاکیس نے یورپی یونین پر یہ کہہ کر ’’دہشت گردی‘‘ کا الزام لگایا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یونانیوں کو خوفزدہ کر رہی ہے۔

پیر کے ریفرنڈم میں یونانی عوام کی طرف سے عالمی قرض دہندگان کی کڑی شرائط کو بھاری اکثریت سے مسترد کیے جانے کے بعد ملک کے وزیرِ خزانہ یانس ووروفاکیس نے پیر کو استعفیٰ دے دیا ہے۔

ان کا استعفیٰ باعث حیرت تھا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ صرف اس وقت استعفیٰ دیں گے اگر ملک کے عوام نے ہاں میں ووٹ دیا۔

تاہم ووروفاکیس نے پیر کو کہا کہ انہیں یوروزون کے کچھ ممبران کی ترجیحات سے آگاہ کیا گیا کہ وہ وزرائے خارجہ کے اجلاسوں میں اُن کی شرکت کے خواہمشند نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کا خیال تھا کہ ان ملاقاتوں میں ان کی غیر موجودگی سے قرض دہندگان کے ساتھ معاہدہ طے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘

گزشتہ چند ماہ کے دوران ووروفاکیس کی قرض دہندگان کے ساتھ کئی مرتبہ تلخ کلامی ہوئی ہے۔ چند دن قبل انہوں نے یورپی یونین پر یہ کہہ کر ’’دہشت گردی‘‘ کا الزام لگایا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یونانیوں کو خوفزدہ کر رہی ہے۔

ووروفاکیس نے اتوار کو کہا کہ ریفرنڈم میں ’’نہ‘‘ کا نتیجہ ایک ’’مقدس لمحہ‘‘ اور ’’پورے یورپ کے لیے امید کا ایک لمحہ ہے۔‘‘

اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق لگ بھگ 61 فی صد رائے دہندگان نے معیشت کی بحالی کے لیے بین الاقوامی 'بیل آؤٹ پیکج' کی شرائط مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

یونان کی سوشلسٹ حکومت کے وزیرِاعظم ایلکسس سپراس نے قرض دہندگان کی شرائط کو "بلیک میلنگ" اور "ملکی وقار کے منافی" قرار دیتے ہوئے گزشتہ ہفتے انہیں قبول کرنے یا نہ کرنے کے لیے ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے عوام سے ’’نہ‘‘ میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔

اتوار کی رات ہزاروں یونانی ریفرنڈم کے نتائج کا جشن منانے ایتھنز کے مرکزی چوک میں جمع ہوئے جن میں سے کئی ’’نہیں، نہیں‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

وزیرِ اعظم الیکسس سیپراس نے ریفرنڈم کے بعد کہا کہ ’’آج ہم جمہوریت کی فتح کا جشن منا رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ایتھنز مذاکرات کی میز پر واپس جانے کے لیے تیار ہے اور عوام کا مینڈیٹ یونان کے قرض دہندگان کے ساتھ ایک بہتر سودا طے کرنے میں مدد دے گا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوام نے ایک ’’بہت دلیرانہ انتخاب کیا ہے۔‘‘

حزب مخالف نے سیپراس پر یوروزون میں ملک کی رکنیت خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔ یونان کی حزب مخالف کے رہنما انٹونیس سماراس نے ریفرینڈم کے بعد استعفے کا اعلان کیا ہے۔ ان کی ’نیو ڈیموکریسی‘ پارٹی نے ریفرنڈم میں ’ہاں‘ میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔

اس کا مؤقف تھا کہ یونان کے پاس یورپی یونین میں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یوروزون سے اخراج کا مطلب ہے کہ یونان کو اپنی پرانی کرنسی ڈراچما کا استعمال دوبارہ شروع کرنا پڑے گا، جسے یونان کے باہر ماننے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ قرض دہندگان اخراجات کو کم کرنے کے مطالبات سے پیچھے ہٹنے اور یونان کو مزید قرض دینے پر تیار ہوں گے یا نہیں۔ جب یونان عالمی مالیاتی فنڈ کو گزشتہ ہفتے واجب الادا 1.8 ارب ڈالر قرض کی ادائیگی نہیں کر سکا تو یورپی رہنماؤں نے کہا تھا کہ ریفرنڈم میں منفی جواب کا مطلب یونان کا یوروزون سے اخراج اور یورپ سے سیاسی علیحدگی ہو گا۔

’یورپی یونین' کا منتظم ادارہ یورپین کمیشن کا اجلاس منگل کو فرانس کے شہر اسٹراس برگ میں ہوگا جس کے بعد کمیشن یورپی پارلیمان کو یونان کی صورتِ حال سے متعلق رپورٹ اور اپنی سفارشات پیش کرے گا۔

یونان کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ عالمی قرض دہندگان کے ساتھ بات چیت میں یونان کے مرکزی مذاکرات کار یوکلڈ سالکالوٹوس حکومت کی جانب سے وزارت خزانہ کے سب سے اہم امیدوار ہیں۔

نئے وزیر خزانہ کا نام سیاسی رہنماؤں کی صبح دس بجے سے جاری ملاقات ختم ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG