رسائی کے لنکس

یونان: وزیر اعظم اور اپوزیشن کے سربراہ کے مابین مذاکرات


یونان: وزیر اعظم اور اپوزیشن کے سربراہ کے مابین مذاکرات

یونان: وزیر اعظم اور اپوزیشن کے سربراہ کے مابین مذاکرات

یونان کے قدامت پسند حزب مخالف راہنما نے ایک نئی مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے ملک کے سوشلسٹ وزیر اعظم اور رسمی صدر کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہونے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے، جِس کا مقصد ملک کو معاشی بدحالی سے نکالنے اور قومی دیوالیہ پن سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یونان کے صدر کارلوس پپولیاس اتوار کی شام گئے وزیر اعظم جارج پپاندریو اور نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ، اینٹونی سماراس سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

اِس سے قبل، وزیر اعظم نے کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کو بتایا کہ دن چڑھنے سے پہلے پہلے وہ قومی اتحاد پر مبنی ایک حکومت پر کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے خواہشمند ہیں، جس کی سربراہی کوئی دوسرا شخص کرے گا۔ ایسی حکومت کی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کو یورپی یونین کی طرف سے یونان کو معاشی مشکلات سے نکلنےمیں مدد دینے کےلیے دوسرے پیکیج کو منظور کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی، جس کی گذشتہ ماہ یونان کو پیش کش کی گئی تھی۔ اِس سمجھوتے کی رو سے یونان کو ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنے اور حکومت کے پینشن اور تنخواہوں میں کٹوتی لانے کے لیے اقدام کرنا پڑے گا۔

اتوار کے روز سماراس نے صدر سے ملاقات کی اور سیاسی مذاکرات سے قبل مسٹر پپاندریو کے استعفے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ تاہم، حکمراں پاسوک پارٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے اتحادی حکومت تشکیل دینے پر کسی سمجھوتے کے بعد ہی استعفیٰ دیں گے، جِس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ اتحادی حکومت اُس وقت تک اقتدار میں رہے جب تک نئی انتخابات نہیں ہو جاتے۔
حکمراں سوشلسٹوں کا کہنا ہے کہ جنوری یا فروری تک انتخابات ہو جانے چاہئیں، تاہم قدامت پسند اپوزیشن دسمبر میں ووٹنگ کرانے کے حق میں ہے۔

حکمراں پارٹی کے ارکان نے یہ بھی کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ جب وہ پیر کو رخصت ہوں تو یونان میں کوئی حکومت موجود نہ ہو، جب یونان کے وزیر مالیات کی برسلز میں یورو زون کے ملکوں کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات متوقع ہے۔

یونان کے وزیر خزانہ ایونجیلو وینیزیلوس کا کہنا ہے کہ دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے پیکیج کی 11ارب ڈالر کی دوسرے قسط کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG