رسائی کے لنکس

یونان: اسٹاک مارکیٹ دوبارہ کھول دی گئی، 22 فیصد خسارہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزیر اعظم الیکسیس سیپراس کو نئے بیل آؤٹ پر اپنی بائیں بازو کی جماعت ’سریزا‘ کے اندر سخت مخالفت کا سامنا ہے جو انہیں موسم خزاں میں جلد الیکشن کرانے پر مجبور کر سکتی ہے۔

پیر کو پانچ ہفتوں میں پہلی مرتبہ کھولے جانے کے بعد ایتھنز Aسٹاک مارکیٹ میں قیمتیں تیزی سے نیچے گریں۔ کاروبار شروع ہونے کے چند منٹوں کے اندر ایکسچینج انڈیکس میں 23 فیصد کمی ہوئی۔

اس کے بعد حصص کی قیمتوں میں کچھ بحالی ہوئی اور دو گھنٹے کے بعد قیمتوں میں کمی 19 فیصد سے بھی نیچے آ گئی۔

بینکوں کے حصص سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور انہیں یومیہ تجارت کی سب نچلی حد یعنی 30 فیصد یا اس کے قریب خسارے کا سامنا رہا۔

حکومت نے جون کے اواخر میں قرضوں کے بحران کے باعث بینکوں اور سٹاک ایکسچینج کو بند کر دیا تھا اور پیسے نکالنے پر حد عائد کر دی تھی۔

ملک کے بینک کھل چکے ہیں مگر پیسہ نکالنے پر سخت پابندی اب بھی جاری ہے۔

یونان کا یورپی یونین اور عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ایک نئے بیل آؤٹ پیکج پر اتفاق رائے ہو گیا تھا جس کے بعد 20 جولائی کو بینک کھول دیے گئے مگر سرمائے پر کنٹرول اب بھی برقرار ہے۔

یونان اس وقت قرض دہندگان کے ساتھ مشکل اور پیچیدہ مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران ایک بڑے نئے قرض کی شرائط طے کی جا سکیں۔ یہ قرض 94 ارب ڈالر مالیت تک بڑا ہو سکتا ہے۔

پانچ سال کے دوران یہ یونان کا تیسرا بڑا بیل آؤٹ قرض ہو گا۔ یونان کو نیا قرض دینے کا فیصلہ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات اور تنازعات کے بعد کیا گیا۔

جولائی کے اوائل میں یونان نے ایک ریفرینڈم کے ذریعے اس سے قبل تجویز کیے گئے بیل آؤٹ پیکج کو مسترد کر دیا تھا۔ بہت سے یونانیوں نے قرض دہندگان کی جانب سے عائد کی گئی اخراجات کم کرنے کی سخت شرائط کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ان سے ملک کے اقتصادی بحران میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔

یورپی یونین اور عالمی مالیتی فنڈ کے مذاکرات کار جلد ریٹائرمنٹ کے منصوبوں میں کٹوتیوں کے عمل کو تیز کرنے اور ٹیکس بقایاجات کی ادائیگیوں کے ایک منصوبے کے لیے سخت شرائط کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم الیکسیس سیپراس کو نئے بیل آؤٹ پر اپنی بائیں بازو کی جماعت ’سریزا‘ کے اندر سخت مخالفت کا سامنا ہے جو انہیں موسم خزاں میں جلد الیکشن کرانے پر مجبور کر سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG