رسائی کے لنکس

مجوزہ منصوبے کے تحت سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی میں مہارت رکھنے والے افراد کے امریکہ ترکِ وطن کرنے کو ترجیح دی جائے گی

اگر امریکی کانگریس نے ترک وطن کرنے والوں سے متعلق وضع کی گئی قانون سازی میں نئی ترامیم منظور کیں، تو ’گرین کارڈ لاٹری‘ بند ہو سکتی ہے۔

یہ لاٹری امریکہ آ کر بسنے اور ترقی کا خواب دیکھنے والے غیر ملکی افراد کے لیے متعارف کروائی گئی تھی۔

لیکن، ’وائس آف امریکہ‘ کے نامہ نگار، برائن پیڈن کی خبر کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کے تحت سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی میں مہارت رکھنے والے افراد کے امریکہ ترک وطن کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔

سابق امریکی سینیٹر، ایڈورڈ کینیڈی کو اِس لاٹری کا خیال 90 کی دہائی میں آیا، تاکہ یورپ سمیت دیگر ممالک جِن کا امریکہ آکر آباد ہونے کا کوٹہ کم ہے، اُنہیں یہاں آنے کا موقع مل سکے۔

سرکاری طور پر ’ڈائورسٹی ویزا‘ کے نام سے مشہور یہ لاٹری پروگرام مقابلتاً مختصر ہے، کیونکہ اِس کے تحت صرف 50،000 غیر امریکی افراد کو اُن کے ملکوں میں بیٹھے گرین کارڈ جاری کیا جاتا ہے، جبکہ ہر سال امریکہ میں رہنے والے10 لاکھ غیر ملکی افراد کو گرین کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔

’گرین کارڈ لاٹری‘ کے ذریعے امریکہ آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قسمت بدلنا اور بہتر معیارِ زندگی اپنانے کے خواہش مند تھے۔ اِسی لیے، اُنھوں نے اس لاٹری میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

کانگریس کے کچھ ارکان کو ’ڈائورسٹی ویزا‘ میں اصلاحات پر اعتراض ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ کو دیگر ممالک کے غریب اور بہتر مواقع تلاش کرنے والے افراد کی مدد کرنا چاہئیے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG