رسائی کے لنکس

ماحولیات کے تحفظ پر اسلام اور سائنس کا نقطہ نظر یکساں ہے

  • برائن جکارتہ

ماحولیات کے تحفظ پر اسلام اور سائنس کا نقطہ نظر یکساں ہے

ماحولیات کے تحفظ پر اسلام اور سائنس کا نقطہ نظر یکساں ہے

ایک ارب 40 کروڑ آبادی اور دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر کے مالک ہونے کے باعث مسلم کمیونٹی ماحول کے تحفظ میں ایک اہم کردار اداکرسکتی ہے۔ اسلامی کمیونٹی میں ماحول کوگرین یا صاف رکھنے کی ایک بین الاقوامی تحریک کو منظم کرنے کی ایک نئی کوشش شروع ہوگئی ہے۔

اسلامی دنیا میں ایک ماحولیاتی تحریک پروان چڑھ رہی ہے۔ راسخ العقیدہ مسلما نوں کا کہنا ہے کہ ان کا مذہب اور ماحولیاتی تحفظ آپس میں متصادم نہیں ہیں۔ اور یہ کہ گلوبل وارمنگ یعنی عالمی حدت میں اضافے کے اثرات علاقے اور مذہب کی تفریق سے بالا ہیں۔

محمود عاکف، ارتھ میٹس ڈائیلاگ سینٹر سے منسلک ماحولیات کے ایک سرگرم کارکن ہیں۔ وہ جکارتہ میں آب و ہوا سے متعلق ایک حالیہ کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے تقریباً دو سو مسلمان مندوبین میں شامل تھے ۔

وہ کہتے ہیں کہ کیونکہ ہم سب اس کرہٴ ارض پر رہتے ہیں، اس لیے آب وہوا کی تبدیلی کے سلسلے میں جو کچھ ہورہا ہے اور اس کے جو اثرات مرتب ہورہے ہیں، وہ امریکیوں پر بھی پڑ رہے ہیں اور ان کا اثر یہاں انڈونیشیا، مصر، افریقہ، ایشیا اوردنیا بھر میں کسی بھی جگہ پر موجود مسلمانوں پر بھی ہورہا ہے۔

آب و ہوا کے ماہرین اور ماحول سے متعلق سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ معدنی ایندھن جلانے سے عالمی تپش میں اضافہ ہورہاہے۔ ماحولیاتی تحریک نے اپنے زیادہ تر وسائل ایک عرصےتک مغربی قوموں میں تبدیلی کے لیے رائے ہموار کرنے پر صرف کیے ہیں۔

مگر ان کا کہنا ہے کہ بہت سے مسلمان اکثریتی ملکوں نے فیکٹریوں اور موٹرگاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی کو محدود کرنے کے لیے بہت معمولی اقدامات کیے ہیں۔ اور انہوں نے قدرتی وسائل کے استحصال کی اجازت دی ہے، مثلاً انڈونیشیا کے جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی۔

عاکف کا کہنا ہے کہ ماحولیات سے متعلق سرگرم مسلمان کارکن یہ پیغام پھیلانا چاہتے ہیں۔ مثال کے طورپر وہ عالمی حدت کے بارے میں آگہی بڑھانے کے لیے ایک گرین حج تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے میں حج کے مقامات پر پلاسٹک کی بوتلوں پر پابندی اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے اور اسلامی تعلیمات کے درمیان تعلق کے بارے میں ورکشاپس شامل ہیں۔

عاکف کہتے ہیں کہ قرآن کریم ایک قسم کی ماحولیات سے متعلق ایک کتاب ہے۔ اس کی بہت سی آیات میں ماحول کے بارے میں، ماحول سے برتاؤ کے بارے میں اور ماحول کو محفوظ رکھنے کے طریقوں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

مسلم کمیونٹی مساجد کو ماحول دوست بنانے اور قرآن پاک کو مستقل طورپر قائم رہنے والے جنگلات کی لکڑی سے تیار کیے جانے والی کاغذوں پر شائع کرنے کی منصوبہ بندی بھی کررہی ہے۔

محمد سمبرنگ کاتعلق انڈونیشیا کے ماحول سے متعلق ایک ادارے کیہاتی سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان سرگرم کارکنوں کے نزدیک ماحولیات کے حوالے سے سائنس اور عقیدے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ یہ دونوں اس مسئلے پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مسلمان کمیونٹی میں ماحولیات سے متعلق کسی تحریک کا آغاز آب وہوا کی تبدیلی پر ایک عالمی اتفاق رائے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

XS
SM
MD
LG