رسائی کے لنکس

جن کے گھروں کے ارد گرد پودوں، درختوں اور سبزے کی سطح میں اضافہ ہوا تھا وہاں سائنس دانوں نے مسلسل کم شرح اموات کو دیکھا تھا۔

قدرتی ماحول میں رہنا انسانی صحت کے لیے کتنا اچھا ہے اسی حوالے سے ایک نئی تحقیق نے مزید ثبوت پیش کیے ہیں، جس میں سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ جن علاقوں میں زیادہ پودے اور ہریالی ہوتی ہے وہاں خواتین کی عمریں لمبی ہوتی ہیں۔

تازہ تر ین جائزہ انسانی صحت پر ماحول کے اثرات کو سمجھنے کے حوالے سے تھا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ کم ہریالی والے علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مقابلے میں قدرتی ماحول سے قریب رہنے والی خواتین میں نمایاں طور پر شرح اموات کم تھی۔

یہ مطالعہ 'ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ' اور بوسٹن میں 'بریگھم اینڈ وومن اسپتال' کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا جس سے پتا چلا کہ کم پودوں اور درختوں والے علاقے میں رہنے والی خواتین کے مقابلے میں ماحول دوست علاقوں میں رہنے والی خواتین میں مجموعی طور پر 12 فیصد کم شرح اموات تھی۔

سائنی پیپر' اینوائرمینٹل ہیلتھ پرسپیکٹیوز' نامی جریدہ میں 14 اپریل کو شائع ہوا جس میں محققین نے لکھا کہ شرح اموات کی کمی کے نتائج کے ساتھ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پودے اور ہریالی ہماری صحت کے لیے کئی طریقوں سے بہت اہم ہو سکتے ہیں۔

ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک تحقیق کے شریک مصنف پیٹر جیمز نے کہا کہ ہم ہریالی کی نمائش میں اضافے اور کم شرح اموات کے درمیان مضبوط تعلق کا مشاہدہ کرنے پر حیران تھے ۔ ہمیں بالخصوص گردے کی بیماری، سانس کی بیماری اور کینسر سے متعلق اموات کی شرح میں سب سے بڑے اختلافات ملے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی محققین نے اپنے تجزیہ میں یہ بھی کھنگالنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح پودے، جھاڑیاں اور سبزہ کے ساتھ ایک ماحول موت کی شرح کو کم کرسکتا ہے۔

محقق پیٹر جیمز نے کہا کہ خاص طور پر ہمیں ہریالی کا ذہنی صحت پر ایک اہم مثبت اثر ملا ہے۔

مطالعہ سے ظاہر ہوا کہ وہاں کئی میکانزم تھے جو کہ ہریالی اور شرح اموات میں کمی کے درمیان تعلق کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جن میں بہتر ذہنی صحت اور سماجی مصروفیت مضبوط ترین عوامل ہو سکتے ہیں اسی طرح جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ اور کم فضائی آلودگی بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

دریں اثناء محققین نے سبزے اور پودوں کے ارد گرد رہنے والی خواتین میں ڈپریشن کی 30 فیصد کم سطح کو ہریالی کے فوائد کے ساتھ منسلک کیا ہے ۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں ادارے کی سربراہ لنڈا برنبم نے کہا ہمارے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ پودے اور درخت ہماری کمیونٹیز کو صحت اور ساتھ ساتھ خوبصورتی کے فوائد فراہم کرتے ہیں۔

مطالعاتی جائزہ ماحولیاتی ہیلتھ سائنس کے قومی ادارے (این آئی ای ایچ ایس )کی طرف سے فنڈ کیا گیا تھا ۔جس میں نرسوں کی صحت کے ایک طویل المعیاد مطالعہ میں شامل خواتین کے گھروں کے ارد گرد پھیلی ہریالی کی سطح کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

اپنے مطالعے کے لیے محققین نے سیٹلائٹ کے ذریعے گھروں کے مقامات سے 250 سے 1,250 میٹر کے اندر اندر سبزہ اور ہریالی کی سطح کا تعین کیا تھا ۔

محققین نے پودوں کی سطح میں تبدیلیوں اور شرکاء کی اموات سے باخبر رہنے کے لیے 2000 سے 2008 تک ان کی پیروی کی تھی جبکہ مطالعے کی مدت کے دوران 8,604 اموات واقع ہوئیں۔

جن کے گھروں کے ارد گرد پودوں ،درختوں اور سبزہ کی سطح میں اضافہ ہوا تھا وہاں سائنس دانوں نے مسلسل کم شرح اموات کو دیکھا تھا ۔

یہ رجحان موت کی الگ الگ وجوہات کے لیے بھی دیکھا گیا تھا او جب محققین نے کم ہرے بھرے ماحول میں رہنے والی خواتین کا مقابلہ سبزہ اور ہریالی سے ہرے بھرے علاقوں میں رہنے والی خواتین کے ساتھ کیا ،تو انھیں پتا چلا کہ وہاں گردوں کی بیماری کے لیے 41 فیصد کم شرح اموات تھی ،اسی طرح سانس کی بیماری کے لیے 34 فیصد کم شرح اموات تھی علاوہ ازیں ماحول دوست علاقوں میں کینسر کے لیے 13 فیصد کم شرح اموات پائی گئی۔

محققین نے موت کے خطرے میں اضافہ کرنے والے دیگر عوامل مثلا شرکاء کی سماجی واقتصادی حیثیت ،عمر جنس ،قومیت اور نسل اور تمباکو نوشی سمیت خواتین کی طرز زندگی کو بھی دیکھا ہے۔ اور ان عوامل کو شامل کرنے کے بعد محققین اور بھی زیادہ پر اعتماد تھے کہ ان عوامل کے مقابلے میں پودے اور سبزہ موت کی شرح میں کمی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG