رسائی کے لنکس

روسی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کریں گے: گرین پیس


ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو دنیا کے مختلف شہروں میں ’’یکجہتی مظاہرے‘‘ کیے جائیں گے۔

ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بین الاقوامی تنظیم گرین پیس نے کہا ہے کہ اس کے وکلاء اُن 30 افراد کی فوری رہائی کے لیے درخواست دائر کریں گے جنھیں گزشتہ ہفتے قطب شمالی کے گرد علاقے آرکٹک میں روس کی واحد تیل کی تنصیب پر چڑھنے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا تھا۔

گرین پیس انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کومی نائیڈو نے جمعہ کو کہا کہ یہ گرفتاریاں ’’روسی تیل کی صنعت کی طرح ہی ہیں، (جیسے) گزشتہ دور کے کوئی آثار‘‘۔

نائیڈو کا کہنا تھا کہ کارکنان ’’گیزپروم (تیل کی بڑی پیداواری کمپنی) کی لا پرواہی پر روشنی ڈالنے‘‘ کی وجہ سے جیل میں ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو دنیا کے مختلف شہروں میں ’’یکجہتی مظاہرے‘‘ کیے جائیں گے۔

آرکٹک کے ساحلی شہر مرمانسک میں قائم عدالت نے امریکی باشندے پیٹ وِلکوکس اور گرین پیس کے بحری جہاز آرکٹک سن رائز کے عملے اور اس پر سوار کارکنان کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔

وِلکوکس جہاز کے کپتان ہیں جب کہ جہاز پر روس اور کم از کم 10 دیگر ممالک کے باشندے سوار ہیں۔ متعدد کارکنان کو اُن کے کردار سے متعلق تحقیقات مکمل ہونے تک 72 گھنٹے حراست میں رکھا گیا ہے۔

تفتیش کار یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ آیا ان کارکنان پر قزاقی سمیت دیگر الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر قزاقی کا جرم ثابت ہو جاتا ہے تو مجرم کو 15 برس قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے بدھ کو کہا تھا کہ گرین پیس کے کارکنان قزاق نہیں، لیکن اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ گرین پیس نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اور تیل کی تنصیب پر چڑھنے کی کوشش کے دوران اس کے عملے اور کارکنان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔
XS
SM
MD
LG