رسائی کے لنکس

کسی نے ابھی تک وائنس ٹائن کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی: گروسمین


کسی نے ابھی تک وائنس ٹائن کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی: گروسمین

کسی نے ابھی تک وائنس ٹائن کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی: گروسمین

وائنس ٹائن کے اغوا کاروں کے بارے میں ابھی کوئی اطلاع نہیں ملی، جب کہ اُن کا پتا لگانےکے لیےپاکستانی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے ساتھ بھرپورتعاون کررہے ہیں

پاکستان اور افغانستان سے متعلق خصوصی امریکی ایلچی، مارک گروسمین کا کہنا ہے کہ امریکی امدادی کارکن وارن وائنس ٹائن کے اغوا کاروں کے بارے میں ابھی کوئی اطلاع نہیں ملی، جب کہ اُن کا پتا لگانےکے لیےپاکستانی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے ساتھ بھرپورتعاون کررہے ہیں۔

بدھ کو ’وائس آف امریکہ ‘کی افغان سروس کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ وائنس ٹائن کا اغوا ایک انتہائی ظالمانہ فعل ہے۔مارک گروسمین کے بقول، ’ابھی تک کسی نے اُن کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن میں ایف بی آئے کے اہل کار تفتیش کے لیے تگ و دو کررہے ہیں، جنھیں پاکستانی حکام ، خصوصی طور پر حکومتِ پنجاب، بہترین تعاون فراہم کر رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں، مارک گروسمین نے وزیر خارجہ کلنٹن اور وزیر دفاع پنیٹا کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر سنگین زدران کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سخت تشویش کا باعث ہے۔ اُنھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان تعاون کرتے ہوئے، بقول اُن کے، ایسے لوگوں اور اُن کے حامیوں کو پناہ نہ دے جو امریکی افواج، افغان فوج اور افغان شہریوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔

ایسے میں جب افغان حکومت کو اختیارات حوالے کرنے کا عبوری دور شروع ہوچکا ہےافغانستان میں کلیدی عہدے داروں کے قتل کے حالیہ سلسلےوار واقعات کے بارے میں سوال پر مارک گروسمین نے کہا کہ درحقیقت باغی عناصر اپنا ’اصل ظالمانہ چہرہ‘ دکھا رہے ہیں، کہ تباہی پھیلانے کے لیے وہ آٹھ سالہ کمسن بچیوں کو بھی خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔

اُن کے الفاظ میں: ’ہم افغان قیادت میں ہونے والی مفاہمت کے عمل کے حامی ہیں۔ ہم اختیارات حوالے کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہم یہ سب کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، کبھی ایسا لمحہ آتا ہے جب کہنا پڑتا ہے کہ اب بہت ہوچکا۔ خود کش حملے۔ اسکولوں پر حملے۔ اسپتالوں پر حملے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جنھیں میرے خیال میں کسی بھی ملک میں نہیں ہونا چاہیئے۔‘

اِس سوال پر کہ کیا باغیوں کی طرف سےکیے جانے والے حملے عبوری دور مکمل کرنے کی راہ میں حائل ہوں گے، خصوصی ایلچی کا کہنا تھا کہ اِن باتوں سے لوگوں کی پریشانی میں ضرور اضافہ ہوتا ہے، لیکن اختیارات حوالے کرنے کا کام جاری رہے گا۔ اُن کے بقول، ہم سمجھتے ہیں کہ فوج کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کامیاب رہا ہے۔ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چونکہ حربی اعتبار سے طالبان کو کمزور کیا جاچکا ہے، لہٰذا ، تشدد کے طور پروہ قتل کا حربہ استعمال کر رہے ہیں۔

یہ معلوم کرنے پر کہ جرمنی کے دارالحکومت بون میں افغانستان پر مجوزہ کانفرنس کا دوسرا اجلاس ،جس میں پاکستان اور بھارت شریک ہوں گے، کیا طالبان کی شرکت بھی متوقع ہے، گروسمین نے بتایا کہ بون کا مجوزہ اجلاس اہمیت کا حامل ہے لیکن اُس سے قبل نومبر کے شروع میں ترکی کے شہر استنبول میں ایک میٹنگ کا انعقاد ہوگا جِس کے نتائج اہمیت رکھتے ہیں۔

صدر حامد کرزئی کے جانشین سے متعلق ایک سوال پر اُنھوں نے کہا کہ یہ معاملہ افغان عوام کو طے کرنا ہے۔ اُن سے دریافت کیا گیا تھا کہ افغانستان میں 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں، جس میں حامد کرزئی امدیدوار نہیں ہوں گے، کیا اُن کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صدر کرزئی کا یہ فیصلہ جمہوری اقدار اور آئین کے مطابق ہے ، جسے ہم سراہتے ہیں۔ ِان انتخابات کے لیے مہم کا آغاز اُسی وقت ہوگا جس کا تعین افغان خود کریں گے۔ اُن کے بقول، میں صرف یہ کہوں گا کہ یہ عمل منصفانہ، شفاف اور جمہوری ہونا چاہیئے۔ افغان کس کو اپنا صدر منتخب کرتے ہیں، یہ افغانوں پر منحصر ہے، امریکیوں پر نہیں۔

افغانستان کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ سے متعلق سوال پر، مارک گروسمین نے کہا کہ ساجھے داری کی مجوزہ دستاویز کو جلد از جلد مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اِس سلسلے میں اب تک دو اجلاس ہوچکے ہیں، اور، اُن کے بقول، میرے مذاکرات کار بتاتے ہیں کہ تقریباً 80 فی صد کام مکمل ہو چکا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اِس اسٹریٹجک پارٹنرشپ سے متعلق دستاویز میں امریکہ اور افغانستان کے درمیان مستقبل کے معاشی اور سیاسی تعلقات کی صراحت کی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں کسی نوعیت کے مستقل اڈے حاصل کرنے کا خواہشمند نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG